صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 391
صحيح البخاري - جلدم ٣٩١ ۴۳ - كتاب الاستقراض جس سے ایک کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔اور دوسری برائی وعدہ خلافی ہے جو دراصل جھوٹ ہی کی قسم ہے۔ابن منیر نے یہاں سوال اٹھایا ہے کہ قرضہ سے پناہ مانگنے کی دعا اور تلقین اور پھر قرضہ لینے کا جواز یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔یہ سوال اُٹھا کر انہوں نے خود ہی اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اگر کوئی وعدہ خلافی سے بچ گیا تو اس نے جواز سے صحیح فائدہ اٹھایا۔دراصل پناہ مانگنے کی دعا کا تعلق وقت پر ادا نہ کرنے ، وعدہ خلافی اور جھوٹ سے ہے، نہ نفس قرض سے جو ایک اجتماعی ضرورت ہے۔اس لئے اس کا عند الضرورت لینا جائز ہے۔امام ابن حجر کا خیال ہے کہ قرضہ لینے کا اصل سبب محتاجی ہے اور دعائے مسنونہ میں اس سے بھی پناہ مانگی گئی ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۷۷ ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كَادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا۔(مسند الشهاب، كاد الفقر أن يكون كفرا، جزء اول صفحه ۳۴۲) قریب ہے کہ محتاجی کفر تک نوبت پہنچا دے۔محتاجی اسی لئے کفر قرار دی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے کئی قسم کی اخلاقی کمزوریاں سرزد ہوتی ہیں۔جن میں سے مذکورہ بالا باب میں دو بیان ہوئی ہیں۔عنوانِ باب بھی اسی لئے مطلق رکھا گیا ہے کہ مقروض سے کئی کمزوریاں صادر ہوتی ہیں جن کا ذکر بعد کے ابواب میں ہے۔مذکورہ بالا حدیث دوسندوں سے مروی ہے۔ابوالیمان کی روایت کے لیے کتاب الاذان باب ۴۹ اروایت نمبر ۸۳۲ دیکھئے۔جہاں سیاق کلام پورا بیان ہوا ہے اور ماتم و مَغْرَم سے بھی پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔خواہ قرض سے ہو یا کسی نقصان سے بصورت تاوان اور جرمانہ وغیرہ۔کریم کے معنے ہیں: مقروض۔بَاب ۱۱ : اَلصَّلَاةُ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا جو قرضہ چھوڑ جائے اُس کی نماز جنازہ کے بارے میں ارشاد ) ۲۳۹۸ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۲۳۹۸ ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی بن ثابت سے، عدی حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نے ابو حازم سے، ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی صلی اللہ قَالَ : مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جو مال چھوڑ تَرَكَ كَلَّا فَإِلَيْنَا۔جائے تو وہ اُس کے وارثوں کے لئے ہوگا اور جو قرض چھوڑ جائے اُس کی ذمہ داری ہم پر ہے۔اطرافه ،۲۲۹۸ ، ۲۳۹۹، ۱۷۸۱، ۱۳۷۱، ٦٧۳۱، ٦٧٤٥، ٦٧٦٣۔۲۳۹۹: ٢٣٩٩: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۳۹۹ عبداللہ بن محمد نے مجھے بتایا۔ابوعامر مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ (عقدی) نے ہم سے بیان کیا کہ فلیح ( بن سلیمان )