صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 390 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 390

صحيح البخاری جلدم ۳۹۰ ۴۳- كتاب الاستقراض إِسْمَاعِيْلُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان کیا، کہا: سُلَيْمَانَ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيْقِ عَن میرے بھائی (عبدالحمید ابوبکر نے مجھے بتایا۔ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنْ عَائِشَةَ انہوں نے سلیمان سے، سلیمان نے محمد بن ابی عقیق رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ سے، انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي عروہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں دعا کیا کرتے مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا تھے اور کہا کرتے تھے: اے میرے اللہ! میں گناہ سے أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيْدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنَ اور قرضداری سے تیری پناہ لیتا ہوں۔کسی کہنے والے الْمَغْرَمِ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! آپ قرض داری حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ۔سے بہت ہی پناہ مانگتے ہیں۔آپ نے فرمایا: آدمی جب قرضدار ہوتا ہے؛ بات کہتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔اطرافه ۸۳۲ ۸۳۳، ٦٣٦۸ ٦٣٧٥، ۶٣٧٦، ۶۳۷۷، ۷۱۲۹ تشریح : مَنِ اسْتَعَاذَ مِنَ الدَّيْنِ : یہاں سے ایک نیا مضمون شروع ہوا ہے جس کا تعلق قرضہ لینے کی برائی سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قرض سے پناہ مانگنے کی دعا کیا کرتے تھے اور آپ نے اپنی امت کو بھی ہدایت فرمائی کہ وہ بھی اس سے پناہ مانگا کرے۔چنانچہ ہماری روز مرہ کی نماز میں یہ دعا ان الفاظ میں شامل ہے: اللَّهُمَّ إِنِّی اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمْ وَ الْحُزْنِ وَاَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَاَعُوْذُبِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَاعْوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَاعْوذُبِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ " اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں مشکلات کے فکر سے اور غم سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں بے سروسامانی اور ستی سے (کہ سامان ہوتے ہوئے اس سے کام نہ لیا جائے ) اور تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی اور بخل سے۔اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی اور مسکینی سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں غلبہ قرض سے اور لوگوں کے دباؤ سے، اے میرے اللہ ! اپنے حلال کے ذریعے حرام سے مجھے بچا اور مجھے اپنے فضل سے بے نیاز کر دے اپنے سوا ہر شخص سے۔قرضہ کی برائیوں میں سے سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وقت پر اگر ادا نہ ہو تو وہ جھوٹ بولنے کے مترادف ہے (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب في الاستعاذة) (سنن الترمذى، كتاب الدعوات عن رسول الله باب في دعاء النبي )