صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 389 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 389

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۸۹ ۴۳ - كتاب الاستقراض الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَخْبَرَهُ بِالْفَضْل (حضرت جابر نے ) آپ کو عصر کی نماز پڑھتے ہوئے فَقَالَ: أَخْبِرُ ذَلِكَ ابْنَ الْخَطَّابِ پایا۔جب آپ (نماز سے) فارغ ہوئے تو انہوں فَذَهَبَ جَابِرٌ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ نے آپ کو اس بڑھوتی کی اطلاع دی۔آپ نے فرمایا: ( عمر ) بن الخطاب کو یہ بتاؤ۔تو حضرت جابر حضرت عُمَرُ: لَقَدْ عَلِمْتُ حِيْنَ مَشَى فِيْهَا عمر کے پاس گئے اور انہیں بتایا۔حضرت عمر نے ان رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کہا: جب رسول اللہ ﷺے باغ میں چلے تھے تو میں لَيُبَارَ كَنَّ فِيْهَا۔سمجھ گیا تھا کہ ضرور اس میں برکت ڈالی جائے گی۔اطرافه: ۲۱۲۷، ۲۳۹۵، ۲۰۰۵، ۲۶۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، 3۵۸۰، ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔تشریح : إِذَا قَاصَّ أَوْ جَازَفَهُ فِي الدَّيْنِ تَمُرًا بِسَمْرٍ أَوْ غَيْرِهِ : زَبَنَ يَرْبُنُ زَيْئًا لَا هُوَوی ی کے معنی ہیں: دفع۔یعنی دھکیلنا۔بائع اور مشتری میں سے ہر ایک دوسرے کو اس کے حق سے ہٹا کر نقصان کی طرف دھکیلتا ہے۔امام مالک نے مزابنہ کی یہ تعریف کی ہے: اَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْجِزَافِ لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ۔(موطا امام مالک، کتاب البيوع، باب ما جاء في المزابنة والمحاقلة) یعنی تجارتی کاروبار جس میں دھوکا فریب کا احتمال ہو اور جس میں اندازہ نہ ہو، بغیر ماپ تول اور شمار کے سودا چکایا جائے۔ایسی بیع مزابنہ کہلاتی ہے۔مزابنہ از قسم بیع غرر شمار کی گئی ہے جو بوجہ احتمال سود ممنوع ہے۔درخت کے تازہ پھل کا اندازہ کر کے اُس کے عوض میں کھجوریں حاصل کرنا یہی صورت عرایا میں جائز ہے۔دیکھئے کتاب البیوع، تشریح باب ۸۴،۸۲۔اسی طرح قرضہ کی ادائیگی میں بھی ایسا لین دین جائز ہے۔مجازفہ کے معنے مقدار جنس کا صرف قیاس سے اندازہ کرنا اور قاص ( باب مفاعلہ مقاصصة ) قصاص سے مشتق ہے یعنی بدلہ یا عوض ولانا۔فقہاء کے نزدیک مذکورہ بالا صورت میں قرضہ کی ادائیگی جائز ہے بشرطیکہ اس سے قرضہ میں تخفیف مد نظر نہ ہو اور قرض خواہ کو اس رعایت کا علم ہو اور وہ اس پر راضی ہو جائے ورنہ نہیں۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۳۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معنونہ مسئلہ کے استنباط میں مذکورہ واقعہ کو کافی نہیں سمجھتے۔بَابِ ۱۰: مَنِ اسْتَعَاذَ مِنَ الدَّيْنِ جو قرض سے پناہ مانگے :۲۳۹۷ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۳۹ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شَعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي ح وَ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔نیز