صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 387
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۸۷ ۴۳ - كتاب الاستقراض ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ سے ( عبد الرحمن ) بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحَدٍ شَهِيدًا وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ فَاشْتَدَّ الْعُرَمَاءُ فِي حَقُوقِهِمْ، فَأَتَيْتُ اُن کے باپ اُحد کی جنگ میں شریک ہوکر شہید النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُمْ ہو گئے اور اُن کے ذمے کچھ قرض تھا۔ قرض خواہوں أَنْ يَقْبَلُوا تَمْرَ حَائِطِي وَيُحَلِّلُوا أَبِی نے اپنے اپنے حق لینے سے متعلق سخت تقاضا کیا۔ اس پر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ نے قرض خواہوں سے کہا: وہ میرے باغ کی کھجوریں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَائِطِي وَقَالَ : سَنَغْدُو قبول کر لیں اور میرے والد کو قرض ( کی ذمہ داری) عَلَيْكَ، فَغَدَا عَلَيْنَا حِيْنَ أَصْبَحَ سے آزاد کر دیں۔ انہوں نے نہ مانا۔ اس پر نبی فَطَافَ فِي النَّخْلِ وَدَعَا فِي ثَمَرِهَا نے اُن کو میرا باغ نہ دیا اور فرمایا: ہم صبح تمہارے پاس بِالْبَرَكَةِ ، فَجَدَدْتُهَا فَقَضَيْتُهُمْ وَبَقِيَ لَنَا آئیں گے۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ ہمارے پاس آئے اور کھجوروں میں آپ نے چکر لگایا۔ پھلوں مِنْ تَمْرِهَا ۔ کے لئے برکت کی دعا کی۔ میں نے اُن کا پھل کاٹا اور اُن کا سب قرض ادا کر دیا اور اس باغ کی کھجوروں سے ہمارے لئے کچھ بیچ بھی رہا۔ إطرافه: ۲۱۲۷ ، ۲۳۹۹، ۲۰۰۵، ۲۰۰۱، ۲۷۰۹، ۲۷۸۱، ٣۵۸۰، ٤٠٥٣، ٦٢٥٠۔ تشريح : إِذَا قَضَى دُونَ حَقِهِ أَوْ حَلَّلَهُ فَهُوَ جَائِز : قرض خواہ کی رضامندی سے قرض دار قابل ادا قرضہ سے کم دے سکتا ہے۔ قرضہ کی ادائیگی میں کمی بغیر اس کی رضا مندی کے جائز نہ نہیں۔ یہ استنباط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سفارش سے کیا گیا ہے جس کا ذکر روایت نمبر ۲۳۹۵ میں ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے والد بعض یہودیوں کے مقروض تھے اور وہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تھے اور قرضہ قابل ادا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ سے سفارش کی کہ ان کے باغ کا پھل قرض کے عوض لے کر قرض کے بار سے انہیں سبکدوش کر دیا جائے۔ یہودی نہ مانے۔ آپ نے اپنی موجودگی میں اُن کے نخلستان کے پھل سے سارے قرض کی ادائیگی کرادی۔ اس واقعہ سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ قرض خواہ اگر راضی ہو تو قرض میں کمی کی جاسکتی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں چونکہ قرض خواہ یہودی تھے جو سودی کاروبار کیا کرتے تھے اور قیاس یہ ہے کہ یہ قرضہ بھی سود در سود والا قرضہ تھا۔ اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۵۱ روایت نمبر ۲۱۲۷ بھی دیکھئے۔