صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 14 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 14

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۴ ۳۴- كتاب البيوع السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ انہوں نے شعبی سے شعبی نے حضرت عدی بن حاتم حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ رضی اللہ عنہ سے روایت کو اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے نوک تیر کی نسبت الْمِعْرَاضِ فَقَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِهِ پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ جب تیر اپنی دھار سے شکار فَكُلْ وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَلَا کو لگے تو کھا لو اور جب تیر کی جھپٹ سے مر جائے تو نہ تَأْكُلْ فَإِنَّهُ وَقِيدٌ۔ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ کھاؤ۔ کیونکہ اس صورت میں وہ چوٹ سے مرا ہوا شکار ہوگا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اپنے کتے کو چھوڑتا أُرْسِلُ كَلْبِي وَأُسَمِّي فَأَجِدُ مَعَهُ عَلَى ہوں اور ( چھوڑنے سے پہلے ) بسم اللہ پڑھ لیتا ہوں الصَّيْدِ كَلْبًا آخَرَ لَمْ أُسَمٌ عَلَيْهِ وَلَا اور جب شکار لینے جاتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ اور أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ۔ قَالَ: لَا تَأْكُلْ إِنَّمَا کتا بھی پاتا ہوں جس پر میں نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہوتی سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَی اور مجھے یہ پتہ نہیں لگتا کہ کس کتے نے شکار کیا۔ آپ الْآخَرِ۔ نے فرمایا: نہ کھاؤ۔ کیونکہ تم نے تو اپنا کتا چھوڑنے پر ہی بسم اللہ پڑھی تھی اور دوسرے پر بسم اللہ نہیں پڑھی۔ اطرافه: ١٧٥، ٥٤٧٥، ٥٤٧٦ ، ٥٤٧٧ ، ٥٤٨٣، ٥٤٨٤، ٥٤٨٥، ٥٤٨٦، 5487، 7397۔ تشریح : تَفْسِيرُ الْمُشَبَّهَاتِ : عنوان باب میں حسان بن ابی سان بصری تابعی کے حوالہ سے آ بحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوسرا پر حکمت بلیغ قول بھی نقل کیا گیا ہے۔ اُن کی یہ روایت امام احمد بن حنبل نے موصولاً نقل کی ہے۔ بخاری سے ان کا صرف یہی حوالہ مروی ہے۔ حسان بن ابی سنان نے ایک موقع پر یونس بن عبید سے بوقت ملاقات مدار ت مذکورہ بالا ارشاد نبوی کا ذکر کر کے کہا کہ میں نے اس سے بڑھ کر مفید علاج ڑھ کر مفید علاج نفس کی بیماریوں کے لئے نہیں پایا۔ تَرَكْتُ مَا يُرِيبُنِي إِلَى مَا لَا يُرِيبُنِي فَاسْتَرَحْتُ ۔ (حلية الأولياء، ذكر حسان بن ابی سنان، جزء۳ صفحه ۱۱۶) جو بات مجھے کھٹکی کہ یہ نامناسب ہے، اُسے چھوڑ دیا اور وہ بات اختیار کی جس کی نسبت میرے ضمیر نے فتوی دیا کہ وہ مناسب ہے تو میں آرام پا گیا۔ ورع کے معنے ہیں شبہات سے بچنے کی کوشش کرنا۔ (اقرب الموارد ورع) الْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ (مسلم، كتاب البر والصلة، باب تفسير البر والإثم) گناہ وہ ہے جو تیرے سینہ میں کھٹکے اور خلش پیدا کرے۔ ضمیر انسانی ہزاروں پر دوں میں بھی خدا داد آواز کو کسی نہ کسی صورت میں انسان تک پہنچا دیتا ہے کہ فلاں بات نا جائز ہے، خواہ وہ حیلے بہانے سے نا جائز بات کے جواز کی صورتیں بنا بنا کر فطرت کی باطنی آواز بند رکھنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے۔ وہ کبھی بند نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید میں فطرت کی اسی آواز کے بارے میں فرمایا گیا ہے : بَلِ الْإِنْسَانُ