صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 15 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 15

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۵ ۳۴- كتاب البيوع عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةً O وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَة (القيامة: ۱۵-۱۲) حقیقت یہ ہے کہ انسان کا نفس خوب بینا ہے، خواہ وہ کتنے ہی عذر پیش کرے۔یہ بصیرت ضمیر کی ہی آواز ہے۔اس فطرتی آواز کا تعلق اُن بنیادی اخلاق سے ہے جو دنیا میں ہر قوم وملت میں مسلّم ہیں، خواہ ان کی عادات، رسم و رواج اور زبانوں میں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔اس تعلق میں تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر کبیر تفسیر سورۃ الماعون ، آیت نمبر ۲۔نیز باب نمبر ۴ ، ۵ مع تشریح بھی دیکھئے۔بَابِ ٤ : مَا يُتَنَزَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ مشتبہ چیزوں سے پر ہیز کیا جائے ٢٠٥٥: حَدَّثَنَا قَيْصَةُ حَدَّثَنَا ۲۰۵۵ : قبیصہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (نوری) سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، انہوں نے طلحہ أَنَس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ سے طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ مَّسْقُوْطَةٍ کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری پڑی فَقَالَ: لَوْ لَا أَنْ تَكُونَ صَدَقَةٌ کھجور کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اگر یہ خیال نہ لَأَكَلْتُهَا ہوتا کہ صدقہ کی ہوگی تو میں اسے کھاتا۔وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ اور ہمام بن منبہ ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے نقل کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔وَسَلَّمَ قَالَ : أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةٌ عَلَى آپ نے (یوں ) فرمایا کہ میں اپنے بچھونے پر پڑی فِرَاشِي۔اطرافه: ٢٤٣١، ٢٤٣٢۔ہوئی کھجور پاتا ہوں۔بَابه : مَنْ لَّمْ يَرَ الْوَسَاوِسَ وَنَحْوَهَا مِنَ الشُّبُهَاتِ وہ شخص جو وسوسوں اور اُن جیسی چیزوں کو مشتبہات میں سے نہیں سمجھتا ٢٠٥٦ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ :۲۰۵۶: ابونعیم فضل بن دکین ) نے ہم سے بیان عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ کیا کہ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ عَمِّهِ قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ زہری سے ، زہری نے عباد بن تمیم سے عباد نے اپنے