صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 382
صحيح البخاری جلدم ۳۸۲ ۴۳- كتاب الاستقراض شخص کی حالت پر غور کیا جس نے اپنی خواہش نفسانی کو اپنا معبود بنالیا ہو اوراللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بناء پر سے گمراہ قرار دیا ہو اور اُس کی شنوائی اور دل پر مہر لگادی ہو۔اور اُس کی بصیرت پر پردہ ڈال دیا ہو۔ایسے شخص کو اللہ کے سوا کون ہدایت دے گا۔پس کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو حقوق العباد کی ادائیگی، انفاق فی سبیل اللہ غریب پروری اور توحید الہی کی اہمیت سے متعلق ہے اور یہ کہ جو اللہ کا شریک نہیں ٹھہرائے گا ، وہ جنت میں داخل ہوگا۔جس پر حضرت ابوذ رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا کہ ایسا شخص جوزنا وچوری جیسے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ہو، وہ جنت میں کیسے داخل ہوسکتا ہے۔اُن کا تعجب اُن کی طبعی افتاد کا آئینہ دار ہے جس کا ذکر کتاب الزکوۃ باب " روایت نمبر ۱۴۰۶ میں گذر چکا ہے۔تقویٰ اور نجات سے متعلق اُن کا تصور ضرورت سے زیادہ تھا اور تشدد کی طرف مائل۔سورۃ الفرقان میں صراحت ہے کہ شرک قبل اور زنا جیسے گناہ کبیرہ کی سزا ضرور ملے گی ؟ سوائے اس کے کہ ان گناہوں سے بچی تو بہ کر کے نیک اعمال بجالائے جائیں۔فرماتا ہے: وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا O يُضْعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهِ مُهَانًا إِلَّا مَنْ تَابَ وَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًاO (الفرقان : ۶۹ تا ۷۱) اور جو کوئی ایسا کام ( یعنی شرک مقتل ناحق اور زنا) کرے گا ، وہ اپنے گناہ کی سزا کو پالے گا۔قیامت کے دن اُس کے لیے عذاب زیادہ کیا جائے گا اور وہ اُس میں ذلت کے ساتھ رہتا چلا جائے گا۔سوائے اس کے جس نے تو بہ کر لی اور ایمان لایا ہو اور ایمان کے مطابق عمل کیے ہوں۔پس یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ) اُن کی بدیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ تعالیٰ ) غفور رحیم ہے۔ط دنیاوی انتظام کے تحت سزائیں تو بہ کا بدل نہیں ہوسکتیں اور محدود ہیں۔تو بہ کا تعلق دل کی تبدیلی سے ہے۔چنانچہ قاتل کی سزا جہنم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءُ هُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء:۹۴) اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے۔وہ اس میں بہت لمبا عرصہ رہنے والا ہے۔اور اللہ اس پر غضبناک ہوا اور اس پر لعنت کی ، اور اس نے اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔} روایت نمبر ۲۳۸۹ سے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی روایت کی تصدیق ہوتی ہے۔علاوہ ازیں اس سے اُس فکر و اہتمام کا بھی علم ہوتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرض کی ادائیگی سے تھا۔لَا يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ: توحید باری تعالیٰ اگر صحیح معنوں میں انسان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ گناہوں کی آلائش سے کلیۂ پاک وصاف ہو جاتا ہے۔توحید کے معنی ہیں : یگانگت۔اور یہ لگا نگت اُس وقت تک متحقق نہیں ہو سکتی جب تک انسان خالق کی مشیت اور اُس کی مرضی اور اُس کی صفات کو اپنا نہ لے۔اور معبود اور عبد کے درمیان کسی قسم کی دُوئی نہ رہے۔ایسی حالت میں گناہ کا ارتکاب نہیں ہوسکتا کیونکہ نور اور ظلمت کا جمع ہونا ناممکن ہے اور یہی مراد ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے جو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو دیا گیا۔