صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 381 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 381

صحيح البخاری جلدم ۴۳ - كتاب الاستقراض امانتوں سے ہے۔مال بھی انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔قرض دیتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ لینے والا کہاں تک ضرورت مند ہے اور آیا ایسا تو نہیں جو مال کو ضائع کرنے والا ہو۔اور جو قرض لیتا ہے وہ بھی اس بات کا خیال رکھے کہ یہ قرض اس کے پاس امانت ہے، جس کی واپسی اس پر لازمی ہے اور نہ ادا کرنے والا قا نو نا قابل مواخذہ ہے کیونکہ مواخذہ ہی سے عدل کا منشاء پورا ہوتا ہے۔اس اعتبار سے مالی ذمہ واری بھی امانت ہی میں شمار کی گئی ہے کیونکہ مال انسان کے پاس بطور امانت ہے، جس سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کیے جاتے ہیں۔اور ان حقوق کی ادائیگی کا تعلق قرض خواہ اور مقروض دونوں سے ہے۔اور دونوں کو ہی دیتے اور لیتے وقت اللہ تعالیٰ کی صفت سمیع اور بصیر سے متصف ہونا چاہیے۔یعنی علی وجہ البصیرت ہو کر انہیں قرض دینا اور لینا چاہیے تا دونوں اخلاقی ذمہ واری سے سرخرو ہوں۔زیر باب روایت نمبر ۲۳۸۸ میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے۔إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمُ الْافَلُونَ : یہ جملہ جوامع الکلم میں سے ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ دولت مندی روپیہ جمع کرنے میں نہیں ہے بلکہ اکثر دولت مند اخلاق فاضلہ سے محروم ہونے کی وجہ سے تہیدست ہیں۔دولت مندی دولت جمع کرنے میں نہیں بلکہ دائیں بائیں خرچ کرنے میں ہے۔یعنی دینی اور دنیاوی ضرورتوں میں خرچ کرنے سے دولت کی غرض پوری ہوتی ہے۔وہ شخص جس نے روپیہ جمع رکھا اور حقوق کی ادائیگی میں خرچ نہ کیا۔وہی سب سے زیادہ قلاش ہے۔مگر جس شخص نے اپنی دولت سے حقوق ادا کیے۔وہی در اصل غنی ہے کہ اس نے دولت کی اصل غرض حاصل کر لی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دولت سے متعلق یہ نظریہ غایت درجہ حکیمانہ ہے اور آپ کی پاکیزہ صفات نفس کی وسعت آپ کے اس قول سے ظاہر ہے کہ اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی آپ کے پاس ہو تو اس سے آپ کی خوشی صرف اُس وقت پوری ہوگی کہ جب حقوق کی ادائیگی میں وہ سب کا سب خرچ ہو جائے۔قرض کی ادائیگی بھی حقوق العباد میں سے ایک نہایت ہی اہمیت رکھنے والا حق ہے۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرضہ نہ ادا کرنے والے شخص کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔(کتاب الحوالات باب ۳ روایت نمبر ۲۲۸۹) اور ایک ڈلی سونے کی گھر میں رہنے سے آپ گھبرائے اور جب تک وہ کسی مستحق کو دے نہ دی، آپ کو اطمینان نہیں ہوا۔(کتاب الزکوۃ باب ۲۰ روایت نمبر ۱۴۳۰) وَمَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا : حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول وَمَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا سے مرادِ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ہے، دیکھئے کتاب اللباس باب ۲۴ روایت نمبر ۵۸۲۷۔ان کی یہ روایت کتاب الرقاق باب ۱۳ روایت نمبر ۶۴۴۳ میں بھی مفصل مذکور ہے۔اس فقرے میں زنا یا چوری کی اجازت نہیں پائی جاتی ، نہ اس سے یہ استنباط کرنا درست ہو سکتا ہے کہ زنا اور چوری جائز ہیں کیونکہ ان کی ممانعت وسزا کا ذکر قرآن مجید اور احادیث میں جگہ جگہ وارد ہوا ہے اور اس سے قبل ایک حدیث میں آچکا ہے کہ مومن ہونے کی حالت میں کوئی شخص زنا نہیں کر سکتا۔توحید باری تعالیٰ اور معصیت الہی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَهَهُ هَوَهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلَى سَمْعِهِ وَ قَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَى بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ اَفَلَا تَذَكَّرُونَ) (الجائیه: ۲۴) کیا تو نے اُس ط