صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 380
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۸۰ ۴۳ - كتاب الاستقراض جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : مَنْ مَّاتَ کیا: جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے کہا: جو شخص تیری الْجَنَّةَ قُلْتُ: وَمَنْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا امت میں سے ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں قَالَ: نَعَمْ۔ داخل ہوگا۔ میں نے کہا: خواہ وہ ایسے ایسے کام بھی کرے۔ آپ نے فرمایا: ہاں۔ اطرافه: ۱۲۳۷، ۱۴۰۸، ۳۲۲۲، ٥٨۲۷، ٦٢٦٨ ، ٦٤٤٣، ٦٤٤٤، ٧٤٨٧۔ یونس ۲۳۸۹ : حَدَّثَنَيْ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ ۲۳۸۹ احمد بن شبیب بن سعید نے مجھ سے بیان ابْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ قَالَ کیا کہ میرے باپ نے ہمیں ہمیں بتایا۔ انہوں نے یوس ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سے روایت کی کہ ابن شہاب نے کہا: عبیداللہ بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عبد الله بن عقبہ نے مجھ سے بیان کیا۔ کہتے تھے کہ ه قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحَدٍ ذَهَبًا مَا علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس اُحد پہاڑ جتنا بھی يَسُرُّنِي أَنْ لَّا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثَ وَعِنْدِي سونا ہو تو مجھے ہرگز خوشی نہ ہوگی کہ تین دن گذر جائیں مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنِ۔ اور اُس میں سے میرے پاس کچھ باقی رہے۔ البتہ قرض ادا کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں ۔ رَوَاهُ صَالِحٌ وَعُقِيَّلٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ۔ یہ (حدیث) صالح اور عقیل نے بھی زہری سے اطرافه: ٦٤٤٥، ٧٢٢٨۔ -------- روایت کی ہے۔ تشریح : اداء الديون: عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہےوہ یہ ہے: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمُ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا ( النساء : ۵۹) اللہ تعالیٰ تمہیں یقینا اس بات کا حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں مستحقوں کے سپرد کرو۔ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے فیصلہ کیا کرو۔ اللہ جس بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہے، وہ یقینا بہت ہی اچھی ہے۔ اللہ یقیناً بہت سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔ اس آیت کا تعلق اصولی طور پر ہر قسم کی حميد عمدة القاری میں ” وَمَنْ" کی جگہ "وَاِنْ“ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء (عمدة القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۲۸)