صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 376
صحيح البخاری جلدم ۴۳ - كتاب الاستقراض باية الحلال ٤٣ - كِتَابُ الاِسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالْحَجْرِ وَالتَّفْلِيس قرض لینے اور قرض کی ادائیگی اور قرض لینے کے متعلق حکما پابندی عائد کرنے اور دیوالیہ سے متعلق احکام باب ۱ : مَنِ اشْتَرَى بِالدَّيْنِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنْهُ أَوْ لَيْسَ بِحَضْرَتِهِ جو شخص کوئی چیز اُدھار پر خرید گرے اور اُس کے پاس اُس کی قیمت نہ ہو یا خریدتے وقت اُس کے پاس قیمت موجود نہ ہو ٢٣٨٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۳۸۵ محمد بن یوسف بیکندی نے ہم سے بیان کیا هُوَ الْبَيْكَنْدِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنِ کہ جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے مغیرہ سے، مغیرہ نے الْمُغِيرَةِ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ شعبی سے، شعبی نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ غَزَوْتُ مَعَ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: کے ساتھ جنگ کے لئے نکلا۔آپ نے فرمایا: اپنے اونٹ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا تم (میرے پاس) اسے بیچو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔چنانچہ میں نے آپ کے پاس وہ (اونٹ) بیچ دیا۔جب آپ مدینہ میں آئے تو میں صبح اس اونٹ کو لے کر آپ كَيْفَ تَرَى بَعِيْرَكَ أَتَبِيْعُهُ قُلْتُ: نَعَمْ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيْرِ فَأَعْطَانِيْ ثَمَنَهُ۔کے پاس گیا اور آپ نے مجھے اُس کی قیمت دے دی۔اطرافه: ٤٤٣، ۱۸۰١، ۲۰۹۷، ۲۳۰۹، ۲۳۹٤، ۲۰۰۶، ٢٤۷۰، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٤٠٥ ٥٠٧٩۲ ۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،۲۹۶۷ ،۲۸۶۱ ،۲۷۱۸ ٥، ٥٢٤٦ ،٥٢٤٧ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧۲٥٠٨٠، ٥٢٤، ٥٢٤٤ ٤٥