صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 375 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 375

صحيح البخاری جلدم ۳۷۵ ۴۲- كتاب المساقاة أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ بن کثیر نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: بشیر بن سیار أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی نے مجھے بتایا جو کہ بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حضرت رافع بن خدیج اور حضرت سہل بن ابی حشمه وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى نے مزابنہ یعنی درخت کی (خام) کھجوریں پختہ عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا کھجوروں کے بدلے میں دینے سے منع فرمایا ہے۔أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ قَالَ عرايا والوں کو منع نہیں کیا۔آپ نے انہیں اجازت دی ہے ( کہ وہ پختہ کھجوریں بدلہ میں لے سکتے ہیں۔) أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ۔طرفه: ۲۱۹۱ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اور ابن الحق نے بھی کہا کہ بشیر نے مجھ سے ایسا ہی بیان کیا ہے۔تشریح : الرَّجُلُ يَكُونُ لَهُ مَمَرٌّ أَوْ شِرْبٌ فِي حَائِطِ أَوْ فِي نَخْل : عنوان باب قاعده ولف ونشر مرتب کے مطابق قائم کیا گیا ہے۔یعنی گزرگاہ کا تعلق باغ سے ہے اور سینچائی کا تعلق نخلستان سے کہ اس کے ہر حصہ دار کا فرض ہے کہ وہ اسے سینچے۔عنوان باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے وہ کتاب البیوع باب ۹۰ میں گزر چکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۲۰۳) اس باب میں پانچ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت کے لئے کتاب البیوع، باب ۹۰ کی تشریح دیکھئے۔دوسری ، تیسری، چوتھی اور پانچویں روایت کے لئے کتاب البیوع، باب ۸۲ تا باب ۸۴ مع تشریح دیکھئے۔مخابرہ کا ذکر کتاب الحرث والمزارعة، باب ۹ تا کی تشریح میں دیکھا جائے۔یہ تمام روایتیں نئے مضمون کی وجہ سے دُہرائی گئی ہیں اور اس اعادے سے مقصود یہ ہے کہ مذکورہ بالا حق گزرگاہ اور حق آبپاشی ان تمام اقسام معاملات میں ملحوظ ہو گا۔