صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 377
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۷۷ ۴۳- كتاب الاستقراض ٢٣٨٦ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا ۲۳۸۶ معلی بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ: (بن زیاد ) نے ہم سے بیان کیا کہ اعمش نے ہمیں تَذَاكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَامِ بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم نے ابراہیم (نخعی) کے فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ سامنے قرض میں گرو رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اسود ( بن یزید ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِي إِلَى روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ بی صلی اللہ علیہ وسلم أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ۔ نے ایک یہودی سے مقررہ میعاد پر غلہ خریدا اور اُس کے پاس (اپنی) لوہے کی زرہ گرو رکھ دی۔ إطرافه ۲۰۶۸، ۲۰۹۶، ۲۲۰۰، ۲۲۵۱، ۲۲۵۲، ۲۰۰۹، ٢٥۱۳، ٢٥١٦، ٤٤٦٧۔ تشريح : مَنِ اشْتَرَى بِالدَّيْنِ وَ لَيْسَ عِنْدَهُ ثَمَنْهُ أَوْ لَيْسَ بِحَضْرَتِهِ: مندرجہ بالا دونوں روایتوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل پیش کیا گیا ہے کہ آپ نے اپنوں سے بھی اُدھار پر سے۔ ۔ سے۔ خرید و فروخت کی اور غیروں سے بھی۔ ان روایتوں سے عنوان باب کی دونوں صورتوں کا جو از ظاہر ہے۔ ایک صورت قرض بلا رہن ہے اور دوسری صورت قرض مع رہن ہے اور ضرورت قرض کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت میں قرض خواہ کے پاس رقم تو ہے مگر کسی وجہ سے اُسی وقت ادا نہیں کر سکتا یا دوسری صورت میں رقم نہیں اور بعد میں ادا کر سکتا ہے۔ پہلی صورت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ خریدنے کے واقعہ سے ظاہر ہے اور دوسری صورت یہودی سے اُدھار غلہ لینے کے واقعہ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ باب اس غ اس غرض سے بھی قائم کیا گیا ہے کہ ابوداؤد اور حاکم کی بعض روایتوں میں جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً منقول ہیں، آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیمت کی عدم موجودگی میں نہیں خریدتا ۔ آپ کے یہ الفاظ ہیں: لَا اَشْتَرِى مَا لَيْسَ عِنْدِى ثَمَنُهُ۔ (مستدرک حاکم، کتاب البيوع، باب من تداين بدين وليس في نفسه وفائه، جزء ثانی صفحه ۲۴) یہ روایت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شرائط کے مطابق نہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کے لیے کتاب البیوع باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷ دیکھئے۔ اور یہودی سے خریدنے کے بارے میں کتاب السلم باب ۵ روایت نمبر ۱ ۲۲۵ دیکھئے۔ روایت نمبر ۲۳۸۶ میں الرَّهْنُ فِي السَّلَم کے فقرہ میں السلم سے اصطلاحی بیع سلم مراد نہیں بلکہ قرض چیز لینا مراد ہے۔ (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في التشديد في الدين)