صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 374
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۷۴ ۴۲ - كتاب المساقاة ۲۳۸۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۳۸۱ : عبد اللہ بن محمد (مسندی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ کہ ابن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن جریج سے، عَنْ عَطَاءٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح ) سے روایت کی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى الله انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور پھل بیچنے سے بھی جب تک کہ وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے ۔ (فرمایا: ) پھل نہ بیچا يَبْدُو صَلَاحُهَا وَأَنْ لَّا تُبَاعَ إِلَّا جائے مگر درہم اور دینار کے بدلے میں۔ بجو عرایا کے بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلَّا الْعَرَايَا۔ کہ ان کے خام پھلوں کا پختہ پھلوں سے مبادلہ ہو سکتا ہے) اطرافه ١٤٨٧، ٢١٨٩، ٢١٩٦۔ ۲۳۸۲: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ۲۳۸۲ : يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے داؤد بن حصین سے، داؤد أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ نے ابوسفیان سے جو کہ ابواحمد کے بیٹے کے آزاد کردہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَخَّصَ غلام تھے۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ نے اجازت دی کہ عرایا کی خام کھجوروں کا اندازہ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ الثَّمَرِ فِيْمَا دُونَ کر کے ان کے مبادلہ میں اتنی ہی پختہ کھجوریں خریدی خَمْسَةِ أَوْ سُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْ سُقٍ جائیں بشرطیکہ پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق ہوں ۔ شَكٍّ دَاوُدُ فِي ذَلِكَ۔ طرفه: ۲۱۹۰ اس بارہ میں داؤد (راوی) نے شک ظاہر کیا۔ ٢٣٨٣ - ٢٣٨٤ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ۲۳۸۳-۲۳۸۴ : زكرياء بن بکی نے ہم سے بیان ابْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ کیا کہ ابواسامہ نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے کہا: ولید محاقلہ سے مراد خشک اناج کے عوض کھڑی فصل کی خرید و فروخت کرنا نیز خشک اناج کے عوض قابل کاشت زمین کا ٹھیکے پر دینا ہے۔ جبکہ مخاضرہ سے مراد ہری فصل کی خرید و فروخت ہے۔ (د) رید و فروخت ہے۔ (دیکھئے تشریح کتاب البیوع باب ۹۳) جبکہ مخابرہ غیر معین معیاد کے لیے ٹھیکہ پر دینا ہے۔ (دیکھئے کتاب الحرث والمزارعة باب۹)