صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 369
صحيح البخاری جلدم ٣٦٩ ۴۲ - كتاب المساقاة مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ پیٹ پھاڑ دیے اور پھر ان کی کلیجیاں نکال لیں۔میں وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُما نے ابن شہاب سے پوچھا: اور کو بان بھی ؟ انہوں نے فَذَهَبَ بِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ کہا: ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور انہیں لے گئے۔اللهُ عَنْهُ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرِ ابن شہاب نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رَضِيَ أَفْطَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللهِ ( وَعِنْدَهُ یہ ایک ایسا نظارہ تھا جس نے مجھے گھبرا دیا۔میں نبی اللہ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ کے پاس آیا۔اس وقت آپ کے پاس زید بن وَمَعَهُ زَيْدٌ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حارثہ تھے۔میں نے یہ ماجرا آپ سے بیان کیا۔آپ نکلے اور زیڈ بھی آپ کے ساتھ تھے۔میں بھی آپ حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ کے ساتھ چل پڑا۔آپ حمزہ کے پاس اندر گئے۔وَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ آپ ان پر خفا ہوئے۔حمزہ نے آنکھ اٹھائی اور کہا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تم کون میرے باپ دادوں کے غلام ہی تو ہو۔يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ وَذَلِكَ قَبْلَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پچھلے پاؤں لوٹے اور چلے تَحْرِيمِ الْخَمْرِ۔گئے۔یہ واقعہ شراب کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے۔اطرافه ،۲۰۸۹، ۳۰۹۱، ۴۰۰۳، ۵۷۹۳ تشریح : بَيْعُ الْعَطَبِ وَالْكَلَا : گھاس اور لکڑی وغیرہ کاٹنے کی عام اجازت کا تعلق ایسی جگہوں سے ہے جو کسی کی ملکیت نہ ہوں۔غیر مملوکہ اراضی میں نفع بخش اشیاء سے استفادہ کی عام اجازت ہے۔ان کے حصول میں ہر شخص کی محنت اس کو حق دار بنا دیتی ہے۔اس تعلق میں باب ۳۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔یہ روایتیں کتاب الزکوۃ میں بھی مذکور ہیں۔بَابِ ١٤ : الْقَطَائِعُ جاگیریں (دینا) ٢٣٧٦ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۲۳۷۶ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے تحی بن سعید سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت قَالَ أَرَادَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انس و اللہ سے سنا۔کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے