صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 370
صحيح البخاري - جلدم ۳۷۰ ۴۲ - كتاب المساقاة أَنْ يُقْطِعَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَقَالَتِ (انصار کو ) بحرین میں جاگیریں دینے کا ارادہ فرمایا تو الْأَنْصَارُ حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنَ انصار نے کہا: ہم تو جب لیں گے کہ آپ ہمارے بھائی الْمُهَاجِرِيْنَ مِثْلَ الَّذِي تُقْطَعُ لَنَا مہاجرین کو بھی جاگیریں دیں؛ ویسی ہی جاگیریں جو قَالَ سَتَرَوْنَ بَعْدِيْ أَثَرَةً فَاصْبِرُوا آپ ہمیں دے رہے ہیں۔تو آپ نے فرمایا: میرے بعد تم خود غرضی کو دیکھو گے۔( یعنی تم پر لوگ مقدم کئے جائیں گے ) تو تم صبر کرنا؛ یہاں تک کہ مجھ سے ملو۔حَتَّى تَلْقَوْنِي۔اطرافه: ۲۳۷۷، ۳۱۶۳، ۳۷۹ تشریح: الْقَطَائِع: سفید زمین آبادی کی غرض سے بطور جاگیر دیئے جانے کے بارے میں فقہاء کا اتفاق ہے اور ان کے نزدیک اس کی دو صورتیں ہیں۔بطور ملکیت یا صرف حاصلات سے فائدہ اُٹھانے کے لئے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین کے جزیرہ سے فائدہ اُٹھانے کی اجازت دی۔اسی طرح مفتوحہ علاقے کا خراج وصول کرنے کی بھی اجازت ہے۔اس تعلق میں مفصل دیکھئے کتاب الجزية، باب: ما أقطع النبي ﷺ من البحرین۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کی جلاوطنی کے بعد اُن کی جائیدادوں میں سے ایک جائیداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کودی ( دیکھئے روایت نمبر ۳۱۵) جو بصورت ملکیت تھی۔معاہد ، ذمی اور مسلم کی جائیداد کسی دوسرے کو بطور جاگیر نہیں دی جاسکتی۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۶۰) بَابِ ١٥: كِتَابَةُ الْقَطَائِعِ جاگیروں سے متعلق دستاویز لکھنا ۲۳۷۷ وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى :۲۳۷۷ اور لیٹ نے یحیی بن سعید سے بروایت ابْنِ سَعِيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے انصار کو بلایا۔اس لئے کہ ان کو بحرین میں جاگیریں الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ فَقَالُوْا دیں تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ دیتے ہیں تو ہمارے بھائی قریشیوں کو بھی ویسی ہی لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا فَلَمْ يَكُنْ جاگیریں دیجئے۔مگر اس وقت آپ کے پاس اور نہیں ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھیں۔آپ نے فرمایا: تم میرے بعد عنقریب دیکھو گے