صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 367
صحيح البخاری جلد ۴ سم ۴۲ - كتاب المساقاة اور چشموں سے پانی پلانے کی عام اجازت ہے۔کسی کو حق نہیں کہ اس میں کسی پر پابندی عائد کرے۔بھٹکی ہوئی بھیڑ بکری ملے تو اس کی حفاظت کم از کم ایک سال کے لئے ضروری ہے۔شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے ہر بات میں رہنمائی فرمائی ہے۔تاکہ ان کے عمل میں یک جہتی پیدا ہوا اور صورتِ وحدت قائم رہے اور وہ معاشرہ قابل قدر درشک ہے، جس کے تمام افراد میں بلحاظ عقید ہوکر دار یگانگت پائی جاتی ہو۔بَابِ ١٣ : بَيْعُ الْحَطَبِ وَالْكَلَا ایندھن ( کی لکڑی ) اور گھاس بیچنا ۲۳۷۳ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ :۲۳۷۳ معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ وہیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت زبیر بن عوام النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ رضی اللہ عنہ سے، حضرت زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلًا فَيَأْخُذَ حُزْمَةً سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَ فَيَكُفَّ اللهُ بِهَا رس لے اور لکڑیوں کا گٹھ لا کر بیچے اور اللہ اس طرح وَجْهَهُ خَيْرٌ مِّنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ اس کی آبرو بچائے رکھے تو یہ بہتر ہے؛ اس بات سے کہ وہ لوگوں سے مانگے۔اس کو ملے یا نہ ملے۔أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ۔اطرافه: ١٤٧١، ٢٠٧٥۔٢٣٧٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۲۳۷۴ بسیجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل عَنْ أَبِي عُبَيْدِ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَن عقیل نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے حضرت ابْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ عبد الرحمن بن عوف کے آزاد کردہ غلام ابوعبید سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْتَطِبَ سے سنا۔کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَّهُ فرمایا تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لہ