صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 365 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 365

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۶۵ ۴۲- كتاب المساقاة ابْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ بن اسلم سے، زید نے ابو صالح سمان سے، ابو صالح نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ آنحضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑے کسی شخص کے لئے ثواب کا موجب ہیں اور کسی شخص کیلئے باعث حفاظت قَالَ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ ہیں اور کسی شخص کے لئے عذاب۔ جس کے لئے وہ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ ثواب ہیں، وہ وہ شخص ہے جس نے انہیں اللہ کی راہ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيْلِ اللهِ فَأَطَالَ لَهَا میں جہاد کے لئے پالا اور انہیں کسی مرغزار یا باغ میں فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي لبھی رہی کر کے کھلا چھوڑ دیا تو وہ اپنی سی کی لمبان میں طِيلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ و کچھ بھی اس مرغزار یا باغ سے چریں گے تو وہ اس کے لئے نیکیاں ہوں گی اور اگر ان کی رسی ٹوٹ جائے كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهُ انْقَطَعَ اور وہ کیلیں کرتے ہوئے میں دو میل تک نکل جائیں طِيَلُهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ تو اُن کے قدموں کے نشان اور اُن کی لید بھی اس کیلئے كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاتُهَا حَسَنَاتٍ لَّهُ نیکیاں ہوں گی اور اگر وہ کسی دریا پر سے گزریں اور اس وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ سے پئیں؛ در آنحالیکہ ان گھوڑوں کا مالک انہیں پلا نا نہیں يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَّهُ چاہتا تو پھر بھی اس کے لئے نیکیاں شمار ہوں گی۔ سو یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے ثواب ہیں اور ایک وہ ہے فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِيًا جس نے دولت حاصل کرنے اور محتاجی سے بچنے کیلئے وَتَعَفَّفًا ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي رِقَابِهَا گھوڑے پالے اور وہ اللہ کاحق (زکو اور وہ اللہ کا حق ( زکوۃ اور صدقات ) وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ وَرَجُلٌ بھی نہیں بھولا جو اُن کی گردنوں اور پیٹھوں میں ہے تو رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءٌ لِأَهْلِ یہ گھوڑے ایسے شخص کے لئے موجب حفاظت ہیں اور الْإِسْلَامِ فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ وَسُئِلَ ایک وہ شخص ہے کہ جس نے ان گھوڑوں کو ریاء اور تخر کے لئے اور مسلمانوں سے دشمنی کی وجہ سے رکھا تو یہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ گھوڑے اُس کے لئے وبال ہوں گے اور رسول الله الْحُمُرِ فَقَالَ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيْهَا شَيْءٌ صلى اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کی نسبت پوچھا گیا تو آپ گلیل : حیوانوں اور پرندوں کی اچھل کود ۔ ( اردو لغت - زیر لفظ کلیل )