صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 364
صحيح البخاري - جلد ۴ سمسم ۴۲ - كتاب المساقاة إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ۔ وَقَالَ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ کی ہی ہے۔ اور (امام بخاری نے) کہا: یہ خبر ہمیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ بچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو رکھ قرار وَأَنَّ عُمَرَ حَمَى الشَّرَفَ وَالرَّبَذَةَ۔ دیا اور حضرت عمر نے شرف اور ربذہ کو۔ طرفه: ۳۰۱۳۔ صلى الله تشريح : لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ : امام شافعی نے اس جملہ کےدو مفہوم بیان کئے ہیں اور دونوں ہی درست ہیں۔ اول یہ کہ کسی کا حق نہیں کہ کوئی زمین مسلمانوں کے لئے محفوظ کرے سوائے اس حالات زمین کے جو اللہ اور رسول ﷺ نے محفوظ کی ہے۔ جیسے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حرم اور اس کی ملحقہ اراضیات محفوظ کی گئی ہیں۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جگہیں اسی طریق پر محفوظ کی جاسکتی ہیں جس طریق پر اللہ اور رسول ﷺ نے کی ہیں۔ یعنی جب متقاضی ہوں تو اولوالا مر بھی زمین محفوظ کرنے میں وہی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دوسرا مفہوم زیادہ واضح اور قابل ترجیح ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۵۶) حمی کے معنے رمنہ یا رکھ۔ جانوروں کے لئے چرا گاہ کے طور پر یا رفاہ عامہ کی خاطر شاملات دہ، چرا گا ہیں اور جنگلات محفوظ کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح گھاٹ یا پانی کی دوسری جگہیں ؟ نہیں جہاں جانور وغیرہ آزادی سے پانی پی سکیں ۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقات کے اونٹوں وغیرہ کے لئے بعض چرا گا ہیں محفوظ کیں۔ زمانہ جاہلیت میں سرداران عرب کا دستور تھا کہ ان میں سے ایک جہاں عمدہ چرا گا ہیں ہوتیں، وہاں کتا چھوڑ دیتا اور جہاں تک اس کے بھونکنے کی آواز پہنچتی ؟ اعلان کر دیا جاتا کہ وہاں تک کوئی دوسرا شخص نہ تو جانور چرا سکتا ہے اور نہ انہیں پانی پلا سکتا ہے اور خلاف و ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں خون ریز جنگیں ہوتا ریز جنگیں ہوتیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قدیم طریق منسوخ فرما دیئے ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۲۱۳) نقیع مدینہ سے میں فرلانگ یا تقریبا اڑھائی میل دور ہے۔ پانی جمع ہونے کی وجہ سے اس جگہ کا نام نقیع مشہور ہوا۔ شرف مدینہ کے مضافات میں سرسبز بلند مقامات ہیں اور ربذہ وادی ذات عرق کے قریب مدینہ منورہ سے تین منزل دور ہے۔ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں شرف کی جگہ سرف ہے جو مکہ مکرمہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ جگہیں رفاہ عامہ کے لئے محفوظ کی گئی تھیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۲۱۴) بَاب ۱۲ : شُرْبُ النَّاسِ وَسَقْيُ الدَّوَابِ مِنَ الْأَنْهَارِ دریاؤں اور نہروں سے لوگوں اور جانوروں کا پانی پینا ۲۳۷۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۳۷۱ : عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید