صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 364 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 364

صحيح البخاری جلدم سم ۴۲ - كتاب المساقاة إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ۔وَقَالَ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ کی ہی ہے۔اور (امام بخاری نے) کہا: یہ خبر ہمیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى التَّقِيعَ پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نقیع کو رکھ قرار وَأَنَّ عُمَرَ حَمَى الشَّرَفَ وَالرَّبَدَةَ۔دیا اور حضرت عمرؓ نے شرف اور ربذہ کو۔طرفه: ۳۰۱۳ صلى الله لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ : امام شافعی نے اس جملہ کے دو مفہوم بیان کئے ہیں اور ا ا تشریح: دونوں ہی درست ہیں۔اول یہ کہ کسی کا حق نہیں کہ کوئی زمین مسلمانوں کے لئے محفوظ کرے سوائے اس زمین کے جو اللہ اور رسول ﷺ نے محفوظ کی ہے۔جیسے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حرم اور اس کی ملحقہ اراضیات محفوظ کی گئی ہیں۔دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جگہیں اسی طریق پر محفوظ کی جاسکتی ہیں جس طریق پر اللہ اور رسول ﷺ نے کی ہیں۔یعنی جب حالات متقاضی ہوں تو اولوالامر بھی زمین محفوظ کرنے میں وہی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک دوسرا مفہوم زیادہ واضح اور قابل ترجیح ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۵۶) حمی کے معنے رمنہ یا رکھا۔جانوروں کے لئے چراگاہ کے طور پر یارفاہ عامہ کی خاطر شاملات دہ، چرا گا ہیں اور جنگلات محفوظ کئے جاسکتے ہیں۔اسی طرح گھاٹ یا پانی کی دوسری جگہیں جہاں جانور وغیرہ آزادی سے پانی پی سکیں۔جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقات کے اونٹوں وغیرہ کے لئے بعض چرا گا ہیں محفوظ کیں۔زمانہ جاہلیت میں سرداران عرب کا دستور تھا کہ ان میں سے ایک جہاں عمد و چرا گا ہیں ہوتیں، وہاں کتا چھوڑ دیتا اور جہاں تک اس کے بھونکنے کی آواز پہنچی ؟ اعلان کر دیا جاتا کہ وہاں تک کوئی دوسرا شخص نہ تو جانور چرا سکتا ہے اور نہ انہیں پانی پلا سکتا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں خون ریز جنگیں ہوتیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قدیم طریق منسوخ فرما دیئے۔(عمدۃ القاری جز ۲ صفحہ ۲۱۳) نقيع مدینہ سے میں فرلانگ یا تقریبا اڑھائی میل دور ہے۔پانی جمع ہونے کی وجہ سے اس جگہ کا نام تقیع مشہور ہوا۔شرف مدینہ کے مضافات میں سرسبز بلند مقامات ہیں اور ربذہ وادی ذات عرق کے قریب مدینہ منورہ سے تین منزل دور ہے۔صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں شرف کی جگہ سرف ہے جو مکہ مکرمہ سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔یہ جگہیں رفاہ عامہ کے لئے محفوظ کی گئی تھیں۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۲۱۴) بَاب ۱۲ : شُرْبُ النَّاسِ وَسَقْيُ الدَّوَابِ مِنَ الْأَنْهَارِ دریاؤں اور نہروں سے لوگوں اور جانوروں کا پانی پینا ۲۳۷۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۳۷۱: عبداللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ کیا کہ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زید