صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 362 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 362

صحيح البخاری جلد ۴ ۳۶۴ ۴۲ - كتاب المساقاة أَيُّوبَ وَكَثِيْرِ بْنِ كَثِيرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا بن کثیر سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ دونوں میں عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سے ایک دوسرے سے کچھ زیادہ بیان کرتا تھا۔ انہوں قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نے سعید بن جبیر سے روایت کی ۔ کہتے تھے کہ حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللهُ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ فرمایا: اللہ اسماعیل کی ماں پر رحم کرے۔ اگر وہ زمزم کو چھوڑ دیتیں یا فرمایا : اگر وہ (زمزم کے ) پانی سے چلو لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَاءِ لَكَانَتْ عَيْنًا بھر بھر کر نہ لیتیں تو وہ ( آج) ایک بہتا ہوا چشمہ ہوتا اور مَّعِيْنًا وَأَقْبَلَ جُرْهُمْ فَقَالُوْا أَتَأْذَنِيْنَ أَنْ جرہم کا قبیلہ آگیا اور انہوں نے کہا: کیا آپ اجازت تَنْزِلَ عِنْدَكِ قَالَتْ نَعَمْ وَلَا حَقَّ لَكُمْ دیتی ہیں کہ آپ کے پاس اتریں۔ انہوں نے کہا ہاں ۔ فِي الْمَاءِ قَالُوْا نَعَمْ۔ لیکن پانی میں تمہارا حق نہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا۔ اطرافه: ٣٣٦٢ ٣٣٦٣، ٣٣٦٤، ٣٣٦٥۔ ٢٣٦٩ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۳۶۹ : عبد اللہ بن محمد ( مسندی ) نے مجھ سے بیان مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صلى الله نے ابو صالح سمان سے، أَبِي صَالِحِ السَّمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عمرو بن دینار ) سے، انہوں نے ابوصال ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ سے حضرت ابوہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: تین عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اشخاص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کو نہ بات اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ کرے گا اور نہ ان کی طرف (شفقت کی ) نظر کرے گا۔ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَى سِلْعَةٍ لَقَدْ أُعْطَى ایک وہ شخص جس نے اپنا تجارتی سامان بیچنے کے لئے بِهَا أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ كَاذِبٌ سم کھائی کہ مجھے اس کے لئے اس سے بہت زیادہ دیا جاتا تھا جو اب دیا جاتا ہے؛ بحالیکہ وہ جھوٹا ہے اور وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ كَاذِبَةٍ ایک وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اس لئے بَعْدَ الْعَصْرِ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ کھائی کہ وہ کسی مسلمان شخص کا مال مارلے اور ایک وہ مُّسْلِمٍ وَرَجُلٌ مَّنَعَ فَضْلَ مَائِهِ شخص جس نے اپنا بچا ہوا پانی روک لیا۔ اللہ تعالیٰ