صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 358
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۵۸ ۴۴- كتاب المساقاة فیصلہ تسلیم نہیں کیا تو آپ نے عدل و انصاف کا جو تقاضا تھا ، اس کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ آپ کا آخری فیصلہ بوجہ ناراضگی صادر نہیں ہوا؛ بلکہ دارالقضاء کا دستور یہی ہے کہ قاضی جب فریقین کے درمیان مصالحت کا طریق اختیار کرے اور جو فریق نہ مانے تو پھر قاضی کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ حقوق کی تعیین میں عدل وانصاف کا منشاء پورا کرے۔ چنانچہ انصار مدینہ اور دیگر بزرگوں کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی کو حق بجانب سمجھے اور ٹخنوں تک پانی لینے کا اندازہ اُن کے حق میں کیا۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منڈیر تک پانی لینے کی اجازت دی۔ دونوں اندازے ایک سے ہیں۔ کیونکہ کھیتی میں اگر ٹخنوں تک پانی پہنچ جائے تو وہ کھیتی کے سیراب کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اور لوگوں کا اندازہ ایک ہی ہے۔ جیسا کہ روایت کے آخری حصہ سے معلوم ہوتا ہے۔ محمد أُنْزِلَتْ فِي ذَلِكَ : یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ کسی آیت کے شانِ نزول کو بیان کرنے سے مراد واقعہ واقعه پیش آمده کے ساتھ تطبیق دینا مراد ہے۔ اس تعلق میں باب ۴ کی تشریح بھی دیکھئے۔ نیز دیکھئے کتاب الشهادات تشریح باب ۲۵۔ پوری آیت یہ ہے : فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) (النساء :(۲۶) تیرے رب ہی کی قسم ہے کہ وہ ہرگز مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ ہر اس بات میں جس کی بابت اُن کے درمیان جھگڑا ہو جائے ، تجھے حکم نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تو کرے، اس سے اپنے نفوس میں کسی قسم کی تنگی نہ پائیں اور پورے طور پر فرمانبردار ہو جائیں۔ باب ۸ کا عنوان مصدر یہ اور غیر مکمل رکھا گیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ یہاں پانی کی مقدار معین کرنا مقصود نہیں کہ اس کا تعلق حالات سے ہے۔ مقدار کم و بیش ہو سکتی ہے۔ بَاب ۹ : فَضْلُ سَقْيِ الْمَاءِ پانی پلانے کا ثواب ٢٣٦٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۳۶۳ : عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيّ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کمی سے، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سُمی نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا نے فرمایا: ایک بار ایک شخص (راستے میں ) چلا جا رہا تھا رَجُلٌ يَمْشِي فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ کہ اسے سخت پیاس لگی اور وہ ایک کنوئیں میں اُترا اور اس فَنَزَلَ بِرًا فَشَرِبَ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ سے پانی پیا۔ اس کے بعد وہ نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک