صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 359 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 359

صحيح البخاری جلدم ۳۵۹ ۴۲ - كتاب المساقاة اُس کے گناہوں کی مغفرت فرمائی۔صحابہ نے پوچھا: فَإِذَا هُوَ بِكَلْبِ يَلْهَثْ يَأْكُلُ کتا ہے جو ہانپ رہا ہے اور پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ رہا ہے تو اس شخص نے (دل میں ) کہا کہ اسے بھی وہی هَذَا مِثْلُ الَّذِي بَلَغَ بِي فَمَلَأَ خُفَّهُ تکلیف پہنچی ہے جو مجھے پہنچی تھی۔اس نے اپنا موزہ بھرا اور اسے اپنے منہ سے پکڑ کر وہ اوپر چڑھا اور کتے کو ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيْهِ ثُمَّ رَقِيَ فَسَقَى پلایا۔اللہ تعالیٰ نے اُس کے اس عمل کی قدر کی اور الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ وَإِنَّ لَنَا فِي يارسول اللہ ! کیا ہمیں جانوروں ( کو پانی پلانے ) کی الْبَهَائِمِ أَجْرًا قَالَ فِي كُلِّ كَبِدِ وجہ سے بھی ثواب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا: ہر جگر کی وجہ رَطْبَةٍ أَجْرٌ۔تَابَعَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ سے ثواب ہوگا؛ جو تر و تازہ ہو۔(یعنی ہر جاندار کے وَالرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ ساتھ نیک سلوک کرنے میں اجر ہے۔) عبد اللہ بن یوسف کی طرح حماد بن سلمہ اور ربیع بن مسلم نے بھی محمد بن زیاد سے یہی بات نقل کی ہے۔ابْنِ زِيَادٍ۔اطرافه ١۷۳، ٢٤٦٦، ٦٠٠٩۔ابن ٢٣٦٤: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۲۳۶۴: (سعید ) بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ کہ نافع بن عمر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مُلَیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت اسماء بنت ابوبکر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز پڑھی۔پھر آپ نے فرمایا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ دوزخ کی) آگ میرے اتنی قریب ہوئی کہ میں ( فَقَالَ دَلَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَي نے کہا: یا رب ! آیا میں بھی ان ( دوزخ والوں ) کے رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ ساتھ ہوں۔پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عورت ہے کہ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ بلی اُسے نوچ رہی ہے۔میں نے پوچھا: اس کی یہ قَالُوْا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوْعًا۔حالت کیوں ہے؟ فرشتوں نے کہا: اس عورت نے بلی کو بند کر رکھا تھا؛ یہاں تک کہ وہ بھوک سے مرگئی۔طرفه ٧٤٥۔