صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 357
صحيح البخاری جلدم ۳۵۷ ۴۲ - كتاب المساقاة وَالنَّاسُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ پانی دو اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ پھر اس کو روکے رکھو جب تک کہ منڈیروں تک نہ آ جائے، یہ اندازہ کیا کہ اس سے مراد یہ ہے بھنوں وَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ۔تک پانی کھیت میں ہو جائے۔اطرافه ٢٣٥٩ - ٢٣٦٠، ٢٣٦١، ٢٧٠٨، ٤٥٨٥۔تشريح : شُرُبُ الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَينِ : ندی نالے اور دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں تین ہدایتیں زمیر ابواب روایات میں مذکور ہیں:۔اول بلند جگہ پر واقع زمین کی سیرابی مقدم ہے اور پھر نشیب میں واقعہ زمین کا حق ہے۔دوم چونکہ ندی نالے اور دریا کا بہاؤ بلندی سے نشیب کی طرف ہوتا ہے۔اس لئے ملحقہ زمین کا ڈھلوان بھی اسی نسبت سے ہوگا اور بلحاظ آب رسانی بلندی پر واقع زمین کو پانی طبعا پہلے ملے گا اور اسی طریق آب رسانی سے زمین بھی محفوظ رہ سکتی ہے۔ورنہ پانی کی رو سے اس کے ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے۔جہاں مصنوعی نہریں ہیں، وہاں بھی پانی کی تقسیم میں یہی طریق ملحوظ رکھا جاتا ہے۔سوم اگر پڑوسی کی ضرورت زیادہ ہو تو اُسے اخلاقاً مقدم رکھا جائے۔تا اُس کی کھیتی نقصان سے محفوظ رہے۔اگر دونوں کی ضرورتیں مساوی صورت رکھتی ہوں تو بلندی پر واقعہ زمین والے کا حق مقدم ہوگا۔جھگڑے کی صورت میں فیصلے کا طریق یہی ہے کہ بلند زمین کو پانی پہلے دیا جائے۔روایت نمبر ۲۳۶۲ کے الفاظ فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موقع پر صورت حال کا جائزہ لیا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے پڑوسی انصاری دونوں کی ضرورت کے پیش نظر فر مایا کہ زبیر اپنی زمین کو پانی دیں، جتنی کہ ان کی ضرورت ہو، اس کے مطابق آبیاری کے بعد پھر پانی پڑوسی کے باغ کی طرف پھیر دیں اور اس کے ساتھ نیک سلوک کریں۔یعنی اپنا حق پورا نہ لیں۔اس نرم فیصلہ کے باوجود انصاری کی ناراضگی بتاتی ہے کہ وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اُن کے حق سے محروم رکھ کر اپنے کھیت کو جو نشیب میں واقعہ تھا، پانی پہنچانے میں مقدم رکھنا چاہتا تھا اور زود رنج ہونے کی وجہ سے اس کی زبان قابو میں نہ رہی اور وہ الفاظ کہے، جن کا ذکر روایت میں ہے۔اس پر آپ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو اجازت دی کہ وہ اپنا حق پورا کرنے کے بعد اس کی طرف پانی چھوڑ دیا کریں۔ان کو شکایت بھی اسی لئے پیدا ہوئی تھی کہ وہ زبردستی کرنا چاہتا تھا۔روایت نمبر ۲۳۶۲ کے الفاظ فَقَدَّرَتِ الْأَنْصَارُ وَالنَّاسُ سے پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا فیصلے کا مدینہ میں چرچا ہوا اور لوگ موقعہ پر پہنچے اور تحقیق کرنے کے بعد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو حق بجانب سمجھا۔الفاظ فَأَمَرَهُ بِالْمَعْرُوفِ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زبیر کو حسن سلوک کی ہدایت فرما کر انصاری کے اصل حق سے زیادہ دلوانا چاہتے تھے اور جب اُس نے حضور کا