صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 11 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 11

صحيح البخاری جلد ۴ شُبِّهَ || ۳۴- كتاب البيوع عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ کا اشتباہ ہے تو وہ کھلے گناہ کو بطریق اولی چھوڑنے أَتْرَكَ وَمَنِ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُ فِيْهِ والا ہوگا اور جس نے ایسے امر کے ارتکاب کی جرات مِنَ الْإِثْمِ أَوْ شَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ کی جس میں گناہ کا اشتباہ ہے تو قریب ہے کہ وہ کھلے وَالْمَعَاصِيْ حِمَى اللَّهِ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ کھلے گناہ میں مبتلا ہو جائے اور نافرمانی کی باتیں اللہ کی طرف سے ممنوعہ چراگاہ ہیں۔جو شخص چرا گاہ کے الْحِمَى يُوْشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ۔طرفه: ٥٢۔تشریح: ارد گرد چرائے ، قریب ہے کہ اس میں جا پڑے۔اَلْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَين وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ : اس باب کا عنوان مندرجہ بالا حدیث سے اخذ کیا گیا ہے، جس کے راوی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ہیں۔جو چار سندوں سے منقول ہے۔ان میں سے وہ سند مرفوع ہے جس کے راوی ابوفروہ ہیں۔اس کنیت کے دو راوی ہیں۔ایک کا نام عروہ بن حارث ہمدانی ہے جن کا لقب الاکبر ہے ( اس روایت کے راوی یہی ہیں ) اور دوسرے مسلم بن سالم جہنی ہیں جن کا لقب الاصغر ہے۔ان کی صحیح بخاری میں صرف ایک ہی روایت کتاب الانبیاء ( روایت نمبر ۳۳۷۰) میں مروی ہے۔(فتح الباری جز به صفحه ۳۶۹) امام بخاری کو اس روایت کے استخراج میں اس کی اہمیت کی وجہ سے کاوش کرنی پڑی۔اس کی دوسندیں تو معتکن ہیں۔پہلی سند اگر چہ مرفوع ہے مگر اس میں لفظ فال مذکور نہیں۔آخری سند میں موجود ہے۔حضرت نعمان بن بشیر نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح۔ان کے درمیان کچھ مشتبہ باتیں ہیں، جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے۔ایسی باتوں سے بچنا ضروری ہے۔یہ روایت کتاب الایمان باب ۳۹ روایت نمبر ۵۲ میں بھی گذر چکی ہے۔وہاں بتایا گیا ہے کہ ایمان کی صحت کا دارو مدار تقویٰ پر ہے؛ جس کا مرکز دل ہے۔معاملات بیچ وشراء میں انسان حرص اور لالچ کی وجہ سے بسا اوقات اندھا ہو جاتا ہے اور ان سے مغلوب ہو کر دولت کمانے کی دُھن میں حق و باطل کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا محولہ بالا ارشاد عین موقع محل کی مناسبت سے اور اہمیت مضمون کے پیش نظر یہاں دُہرایا گیا ہے۔تجارتی کاروبار سے متعلقہ احکام بیان کرنے سے قبل امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے چند ابواب ایسے قائم کئے ہیں جو اُصولی ہدایت پر مشتمل ہیں۔ان میں سے مذکورہ بالا ارشاد نبوی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔بعض فقہاء نے مشتبہ امور میں اباحت کا فتوی دیا ہے جو مندرجہ بالا ارشاد کے مطابق نہیں۔اس امر کی تفصیل معاملات بیع وشراء میں آئے گی۔