صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 348
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴۸ ۴۲- كتاب المساقاة ة تشريح : مَنْ رَأَى صَدَقَةَ الْمَاءِ وَهِبَتَهُ وَوَصِيَّتَهُ جَائِزَ : پہلاباب پانی کی ملکت اور عدم اور عدم ملکیت کے تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔ امام احمد بہ احمد بن حنبل، ابن ماجہ، ابوداؤد اور طبرانی وغیرہ نے روایت نقل کی ہے۔ جس کے یہ الفاظ ہیں : الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ فِي الْمَاءِ وَالْكَلَا وَالنَّارِ مسلمان تین چیزوں میں برابر کے شریک ہیں؛ پانی، گھاس اور آگ۔ یعنی ان اشیاء کے استعمال سے کوئی کسی کو روک نہیں سکتا۔ اس روایت کی بناء پر فقہاء نے پانی کی ملکیت اور عدم ملکیت کا سوال اُٹھایا ہے۔ قرآن مجید نے خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة: ٣٠) تمہارے لیے وہ سب کا سب پیدا کیا فرما کر زمین کی ہر مخلوق شے کو تمام انسانوں کے فائدہ کے لئے پیدا شدہ قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود علم و قدرت ، محنت اور ر دیا دیگر خدا داد قابلیتوں کی بناء پر ملکیت و عدم ملکیت کے فرق مدارج کو بھی ان کے درمیان تسلیم کیا ہے۔ فرماتا ہے : وَاللَّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُوا بِرَآدِى رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللَّهِ يَجْحَدُونَ) (النحل: ۷۲) اور اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض سے رزق میں بڑھایا ہے اور جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے، وہ اپنا مملوکہ رزق کسی صورت میں بھی ان کی طرف جن پر ان کے داہنے ہاتھ قابض ہیں لوٹانے والے نہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ اس میں برابر کے حصہ دار ہو جائیں۔ کیا وہ ( یہ حقیقت جاننے کے باوجود ) اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔ محولہ روایت سے یہ تو پایا جاتا ہے کہ مذکورہ بالا اشیاء سے استفادہ کا حق سب کو ہے مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ استفادے کی صورت ضبط و ربط میں رکھنے کے لئے کوئی قانون اور حد نہیں؛ جن کے ذریعے سے حقوق کی تمیز اور تعیین ہو سکے اور فتنہ و فساد کی روک تھام رہے۔ عنوان باب میں صدقہ ، ہبہ، وصیت اور تقسیم و در تقسیم ورثہ کا ذکر کر کے بتایا ہے کہ ان صورتوں میں ملکیت متحقق ہوتی ہے اور اس باب کی حدیثوں سے پانی کی ملکیت ثابت کی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قیمتا کنواں خریدا اور ان کی اجازت سے دوسرے لوگوں نے بھی فائدہ اُٹھایا اور آنحضرت ﷺ نے الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ سے دائیں والے کو پہلا حق دار قرار دیا ہے۔ یہ اخلاقی قانون ہے؟ جس کی پابندی خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی۔ صل الله بَاب ۲ : مَنْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَ الْمَاءِ أَحَقُّ بِالْمَاءِ حَتَّى يَرْوَى یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) جس نے کہا کہ پانی کا مالک پانی کا اس وقت تک زیادہ حق دار ہے کہ سیراب کرلے لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ضرورت سے لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ۔ زیادہ پانی جو ہو وہ نہ روکا جائے۔ ابن ماجه، کتاب الأحكام، باب المسلمون شركاء في ثلاث) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في منع الماء) (مسند احمد بن حنبل، جزء ۵ صفحه ۳۶۴) (المعجم الكبير للطبراني، ما أسند عبد الله بن عباس، مجاهد عن ابن عباس ، جزءا اصفحه ۸۰)