صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 347
صحيح البخاری جلدم ۳۷ ۴۲ - كتاب المساقاة بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِيْنِهِ غُلَامٌ پاس ایک پیالہ لایا گیا۔آپ نے اس میں سے پیا اور أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاحُ عَنْ يَسَارِهِ آپ کے داہنی طرف ایک لڑکا تھا، جو عمر میں سب سے فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ چھوٹا تھا اور بڑی عمر والے آپ کی بائیں طرف تھے۔الْأَشْيَاحَ قَالَ مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ آپ نے فرمایا: لڑکے کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بڑوں کو دے دوں؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ سے بچا ہوا جو میرا حق ہے، میں تو وہ کسی کو نہیں دوں گا۔اس پر وہ ( پیالہ) آپ نے اُسے دے دیا۔بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُوْلَ اللهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ۔اطرافه: ٢٣٦٦، ٢٤٥١، ٢٦٠٢، ٢٦٠٥، ٥٦٢٠ ٢٣٥٢: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۳۵۲ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِي قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی۔کہا ابْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حُلِبَتْ که حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ رسول اللہ ﷺ کے لئے گھر میں پلی ہوئی بکری دوہی گئی اور وہ حضرت انس بن مالک کے گھر میں ہی تھی اور دَاجِنٌ وَهُوَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ اس کے دودھ کو اُس کنوئیں کے پانی سے ملایا گیا جو وَشِيْبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِكْرِ الَّتِي فِي حضرت انس کے گھر میں تھا۔پھر انہوں نے رسول اللہ دَارِ أَنَسٍ فَأَعْطَى رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ صل اللہ علیہ سلم کو وہ پیالہ دیا۔آپ نے اسے پیا۔جب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى آپ نے اپنے منہ سے وہ پیالہ الگ کیا تو اس وقت آپ إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ عَنْ فِيْهِ وَعَنْ يَسَارِهِ کے بائیں طرف حضرت ابو بکر تھے اور دائیں طرف ایک أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِيْنِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ بدوی تو حضرت عمر ڈرے کہ کہیں آپ اس بدوی کو نہ عُمَرُ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ أَعْطِ دے دیں۔حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ابوبکر أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ فَأَعْطَاهُ کو دے دیجئے جو آپ کے پاس ہیں۔لیکن آپ نے الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَى يَمِيْنِهِ ثُمَّ قَالَ (وه ( پیالہ) اس بدوی کو دے دیا جو آپ کے دائیں طرف تھا۔پھر آپ نے فرمایا: دائیں طرف والے کو دو۔پھر اس کو جو اس کی دائیں طرف ہے۔الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ۔اطرافه ٢٥٧١، ٥٦١٢، ٥٦١٩۔وہ