صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 346
۳۴۶ ۴۲ - كتاب المساقاة صحيح البخاری جلدم کر کے اس سارے نظام کو منبع رحمت بنایا ہے ، جو قابل شکر گزاری ہے۔مزون عربی میں مینہ برسانے والے بادل کو کہتے ہیں، جو ادھر اُدھر چکر لگاتے اور عند الضرورت برستے ہیں۔تَمَزَّنَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں: مَضَى لِوَجْهِهِ وَذَهَبَ۔جہاں جانا تھا، وہاں چلا گیا۔نیز کہتے ہیں : مَزَّنَ الْقِرْبَة- یعنی مشکیزہ بھر لیا۔(اقرب الموارد- مزن) الشرب کے معنے ہیں پینے کا پانی ، نیز اس کے معنے ہیں پانی کا حصہ - لفظ فُرَات سے آیت الَّذِي تَشْرَبُون کی طرف توجہ دلائی ہے۔یعنی وہ شیریں پانی جو پیا جاتا ہے۔عربی میں اسے الشَّرب کہتے ہیں اور الشرب کے معنے ہیں پینا یا پینے کی شئے۔قرآن مجید میں دریاؤں کے پانی کو میٹھا اور سمندر کے پانی کو کھاری قرار دیا ہے۔وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاج) (الفرقان : ۵۴) اور وہی ہے جس نے دوسمندر چلائے۔جن میں سے ایک تو میٹھا ہے اور دوسرا نمکین ، گلا جلا دینے والا۔مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دے کر پہلا باب عنوان في الشرب سے قائم کیا اور بتایا ہے کہ ابواب مساقاۃ کا تعلق قابل استعمال پانی سے ہے جو زراعت کے لئے مفید ہو۔بَاب ۱ : {فِي الشُّرْبِ وَ مَنْ رَأَى صَدَقَةَ الْمَاءِ وَهِبَتَهُ وَوَصِيَّتَهُ جَائِزَةً مَقْسُوْمًا كَانَ أَوْ غَيْرَ مَقْسُوْمٍ S☆ یہ باب پانی پلانے کے متعلق ہے۔نیز } اس بارے میں ہے کہ جس شخص نے یہ سمجھا کہ پانی کا صدقہ کرنا اور اس کا بہیہ کرنا اور اس کے متعلق وصیت کرنا خواہ وہ تقسیم شدہ ہو یا غیر تقسیم شدہ جائز ہے وَقَالَ عُثْمَانُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور حضرت عثمان نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ مَنْ يَشْتَرِيْ بِئْرَ رُوْمَةَ فَيَكُونُ پوچھا کون ایسا ہے جو کہ رومہ کا کنواں خریدے اور دَلْوُهُ فِيْهَا كَدِلَاءِ الْمُسْلِمِيْنَ فَاشْتَرَاهَا پھر اس کا ڈول اس میں ایسا ہی ہو جیسا کہ باقی مسلمانوں کے ڈول؟ (یعنی خرید کر وقف کر دے۔) عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ۔تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو خریدا۔٢٣٥١: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۲۳۵۱ سعید بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ابو غسان نے ہمیں بتایا۔کہتے تھے کہ ابو حازم نے مجھے عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ الله عَنْهُ بتایا۔انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔