صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 345 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 345

صحيح البخاری جلدم ۳۴۵ ۴۲ - كتاب المساقاة اس خدمت میں نالیاں بنانا کھیتی کو عند الضرورت کنوئیں سے پانی دینے کے کام شامل ہیں ، جو پھلوں کی حفاظت اور نشو و نما کے لئے ضروری ہیں۔اس تعلق میں فقہاء نے عقد مساقاۃ کی صحت کے لئے تین بڑی شرطیں تجویز کی ہیں:۔اول صرف ٹھیکیدار ہی آب رسانی کے کام کو انجام دینے والا ہو۔اگر یہ شرط بھی کی جائے کہ اس کے فرائض کی ادائیگی میں مالک باغ بھی شریک ہوگا تو ایسا ٹھیکہ باطل ٹھہرے گا۔دور میعاد کا مقرر ہونا۔اگر کسی ٹھیکہ میں مدت مساقاة معین نہیں تو یہ ٹھیکہ درست نہ ہوگا۔سوم پیداوار کی بٹائی کے حصہ کا معین ہونا۔اگر ٹھیکے میں پیداوار کی بٹائی کا حصہ غیر معین ہو یا چند درختوں کے پھل مخصوص کر دیئے جائیں تو ایسا ٹھیکہ بھی باطل ہوگا۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایسے درخت کسی آفت کی وجہ سے پھل نہ دیں اور ٹھیکے دار کو نقصان ہو۔غرض اس قسم کے مسائل ہیں جن کی بحث کتاب المساقاة میں آئے گی۔0 ط امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بابا کا عنوان لفظ الشرب سے قائم کر کے قرآن مجید کی دو آیتوں کا حوالہ دیا ہے۔پہلی آیت یہ ہے : أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ) (الأنبياء : ۳۱) کیا منکر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین بند تھے۔پھر ہم نے ان کو کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو پیدا کیا۔سو کیا وہ ایمان نہیں لاتے کہ زمین کی زندگی اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے، جب تک اس کا پیوند آسمان سے قائم رہے۔جسمانی زندگی بھی باران آسمانی کی محتاج ہے اور روحانی زندگی بھی۔اس آیت سے زراعت کے لئے آب پاشی کے انتظام کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔دوسری آیت کا تعلق بھی کا شتکاری اور آبپاشی سے خاص ہے۔فرماتا ہے: أَفَرَءَ يُتُمُ ما تَحْرُثُونَ ، وَ أَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَةٌ أَمْ نَحْنُ c الزَّرِعُونَ لَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ o إِنَّا لَمُغْرَمُونَ ) بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ) أَفَرَءَ يُتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ ، أَنْتُمُ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَه لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَهُ أَجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُونَ ) (الواقعة : ۶۴ تا ۷) کیا تم کو معلوم ہے جو تم ہوتے ہو؟ کیا تم اس کو اگاتے ہو یا ہم اُگانے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اسے بالکل جلا ہوا چورا بنا دیتے۔پھر تم باتیں بناتے رہ جاتے (اور کہتے کہ ) ہم پر تو چٹی پڑ گئی ہے۔بلکہ ہم اپنی محنت کے پھل سے محروم ہو گئے ہیں۔ذرا اس پانی کو بھی تو دیکھو جو تم پیتے ہو۔کیا تم نے اسے بادل سے اُتارا ہے یا ہم اُتارنے والے ہیں؟ اگر ہم چاہتے تو اسے کڑوا کر دیتے۔تم کیوں شکر گزار نہیں ہوتے۔دونوں آئینوں سے بتایا گیا ہے کہ زراعت اور آبپاشی آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔الأجَاجُ الْمُرُّ الْمُؤْنُ السَّحَابُ، فَرَانًا عَذَبًا: لفظ اُجاج کے معنے ہیں نہایت کڑوا اور فرات کے معنے ہیں میٹھا۔دونوں لفظوں کی لغوی تشریح کر کے توجہ اس طرف منعطف کی گئی ہے کہ دنیا میں جو اضداد کا مجموعہ ہے دونوں قسم کے پانی پائے جاتے ہیں اور خالق قدیر نے کائنات اضداد ہی میں سے حیات و بقاء کی صورت قائم