صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 344
صحيح البخاری جلدم بهم بهم نسم ۴۲ - كتاب المساقاة بالا ٤٢ - كتَابُ المُسَاقَاة بَاب فِي الشَّرْبِ یہ باب کھیتوں اور باغوں کے لئے پانی میں سے اپنا حصہ لینے کے بارے میں ہے وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ نیز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا ذکر کہ ہم نے پانی كُلَّ شَيْ حَيَّ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ سے ہر ایک زندہ چیز بنائی ہے سو کیا وہ ایمان (الأنبياء: ٣١) وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: نہیں لاتے؟ اسی طرح اللہ جل شانہ کا یہ فرمانا: أَفَرَءَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ بھلا بتاؤ تو سہی کہ وہ پانی جس کو تم پیتے ہو، آیا تم وَأَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ آخ نے اس کو بادل سے اُتارا ہے یا ہم ہی اسے اُتارا نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَهُ کرتے ہیں۔ہم اگر چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں۔أجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُونَ } پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔} (الواقعة: ٦٩-٧١) تَجَاجًا (النبا : (١٥) مُنْصَيَّا۔تَجَاجًا کے معنی ہیں بہت زیادہ بہنے والا۔( اس آیت الْمُزْنُ السَّحَابُ الْأَجَاجُ الْمُرُّ۔میں) مُون کے معنے ہیں بادل، اجاج کے معنی فرَاتًا (المرسلات: ۲۸) عَذَّبًا۔کڑوے کے ہیں (اور ) فُرَاتًا کے معنی ہیں میٹھا۔تشریح: الْمُسَاقَاة : لفظ مُسَاقَاة - سفي سے مشتق ہے۔جس کے معانی ہیں پانی پلانا۔اور سِقَايَة کے معنے ہیں پانی پلانے کی خدمت۔ہماری زبان میں سقا پانی پلانے والے کو کہتے ہیں۔سفي سے مفاعلہ کے وزن پر مُسَافَاة ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ درختوں کے پھلوں کا ایک حصہ لینے کا معاہدہ کر کے دوسرے شخص شخص کے درختوں کو پانی دینا اور اس کی دیکھ بھال کرنا۔(لسان العرب - سقي ) مُزَارَعَة اور مُسَاقَاۃ میں یہ فرق ہے کہ اول الذکر اصطلاح کا تعلق زمین کی کاشت کے ٹھیکے سے ہے اور ثانی الذکر کا تعلق درختوں کی آب پاشی اور نگرانی کے ٹھیکے سے۔حمد عمدة القاری کے مطابق یہ آیات متن میں شامل ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۸۹) "