صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 343 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 343

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۳ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَتِ وَالْهُدَى کر بیان کیا ۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جن پر میں توبہ قبول إِلَى الرَّحِيمُ (البقرة: ١٦٠-١٦١) کرتے ہوئے جھکوں گا۔ اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا ] (اور ) بار بار رحم کرنے والا ہوں۔ اطرافه ۱۱۸ ، ۱۱۹ ، ٢۰۱۷ ، ٣٦٤٨، ٧٣٥٤۔ تشریح: مَا جَاءَ فِي الْغَرْسِ : کاشتکاری کے تعلق میں میں صحابہ کرام کا دستور یہاں بتایا گیا ہے۔ جہاں پانی وافر ہوتا ہے، وہاں وہ سبزی اور ترکاری بویا کرتے تھے ۔ لفظ الْغَرُس اپنے مفہوم میں عام ہے۔ زراعت پر بھی اطلاق پاتا ہے اور درخت لگانے پر بھی اور پیوند کرنے پر بھی اور اس کے علاوہ سبزیوں کی کاشت پر بھی ۔ روایت نمبر ۲۳۴۹ کتاب الجمعۃ میں بھی گزر چکی ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۹۳۸) اور روایت نمبر ۲۳۵۰ کتاب العلم باب ۴۲ میں بھی دیکھئے۔ إِنَّ اِخْوَتِي مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ: عمل اموال سے مراد اراضی کی کاشتکاری ہے۔ یعنی مہاجر تو تجارت میں مشغول رہتے اور انصار زراعت میں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کاموں سے فارغ البال ہو کر احادیث نبویہ کے حفظ میں مشغول رہتے۔ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ : یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور سب کی حاضری ایک دن ہوگی اور وہاں فیصلہ ہوگا۔ اگر میں نے احادیث بیان کرنے میں اپنی طرف سے کوئی بات بیان کی ہے تو مجھ پر گرفت ہو گی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو بھی معذور ٹھہرایا ہے کہ کاروبار میں مشغول ہونے کی وجہ سے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں سننے کا وہ موقع نہیں ملا جو مجھے ملا تھا۔ اس لئے ان کا تعجب جائے اعتراض نہیں کہ اتنی کثرت سے میں نے حدیثیں بیان کی ہیں ۔ كتاب المزارعة کی ابتداء امام بخاری نے باب فَضْلُ الزَّرْعِ وَالْغَرْسِ سے کی تھی اور خاتمہ کتاب بھی الْغَرُس ہی کے بیان پر کیا ہے جس سے زراعت کی افادیت بیان کی ہے اور اس کے برعکس روایات کا حل لطیف انداز میں کیا ہے۔ آگے اسی تسلسل میں آب پاشی سے متعلق ابواب ہیں۔ 0000000000