صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 337
صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۳۷ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة ٢٣٤٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۳۴۵: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ عَبْدَ اللهِ عُقیل نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم نے ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ مجھے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى ثُمَّ جانتا تھا کہ زمین بٹائی پر دی جاتی تھی۔ پھر حضرت خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ عبداللہ ڈرے کہ ممکن ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَحْدَثَ نے اس کی بابت کوئی نیا حکم دیا ہو، جس کو وہ نہ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ فَتَرَكَ جانتے ہوں۔ اس لئے انہوں نے زمین بٹائی پر كِرَاءَ الْأَرْضِ۔ طرفه: ٢٣٤٣۔ دینی چھوڑ دی۔ باب ۱۹ : كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ زمین کو سونے چاندی کے بدلے ٹھیکہ پر دینا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ أَمْثَلَ مَا أَنْتُمْ اور حضرت عبداللہ بن عباس نے کہا: اچھا طریق صَانِعُوْنَ أَنْ تَسْتَأْجِرُوا الْأَرْضَ جو تم زمینوں کو ٹھیکہ پر دینے میں اختیار کر سکتے ہو؟ یہ ہو سکتا ہے کہ تم اپنی افتادہ زمین کو ایک ایک سال الْبَيْضَاءَ مِنَ السَّنَةِ إِلَى السَّنَةِ۔ کے لئے دیا کرو۔ ٢٣٤٦-٢٣٤٧ : حَدَّثَنَا عَمْرُو ۲۳۴۶-۲۳۴۷: عمرو بن خالد نے ہم سے بیان ابْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ رَبِيعَةَ کیا کہ لیٹ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ربیعہ بن ابْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ ابي عبد الرحمن سے، ربیعہ نے حنظلہ بن قیس سے، ابْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ حنظلہ نے حضرت رافع بن خدیج سے روایت کی ۔ حَدَّثَنِي عَمَّايَ أَنَّهُمْ كَانُوْا يُكْرُوْنَ انہوں نے کہا: میرے دونوں چچاؤں نے مجھ سے بیان