صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 338
صحيح البخاری جلدم ۳۳۸ ۴۱- كتاب الحرث والمزارعة الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں زمینوں کو اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ شرط پر ٹھیکہ پر دیتے تھے کہ جو پانی کی نالیوں کے أَوْ شَيْءٍ يَسْتَفْنِيْهِ صَاحِبُ الْأَرْضِ قریب کی زمین میں پیداوار ہو، وہ ان کی ہوگی یا کچھ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پیداوار مالک زمین اپنے لئے مخصوص کر لیتا تو نبی عَنْ ذَلِكَ فَقُلْتُ لِرَافِعِ لِرَافِعِ فَكَيْفَ هِيَ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا۔میں نے بِالدِّيْنَارِ وَالدِرْهَم فَقَالَ رَافِعٌ لَيْسَ حضرت رافع سے پوچھا: دینار اور درہم کے عوض لگان بِهَا بَأْسٌ بِالدِّيْنَارِ وَالدِّرْهَم وَقَالَ دینا کیسا ہے؟ تو حضرت رافع نے کہا: دینار اور درہم اللَّيْثُ وَكَانَ الَّذِي نُهِيَ مِنْ ذَلِكَ کے بدلے زمین کے دینے میں کوئی برائی نہیں اور مَا لَوْ نَظَرَ فِيْهِ ذَوُو الْفَهْم بِالْحَلَالِ لیث نے کہا: جس بٹائی سے منع کیا گیا ہے، وہ ایسی ہے وَالْحَرَامِ لَمْ يُجِيزُوْهُ لِمَا فِيْهِ مِنَ کہ اگر اس میں حلال و حرام سمجھنے والے غور کریں تو کبھی اس کو جائز قرار نہ دیں۔کیونکہ اس میں دھوکا ہے۔الْمُخَاطَرَةِ۔اطرافهما ۲۳۳۹، ٤۰۱۲-٤٠١٣ - تشریح: كِرَاءُ الْأَرْضِ : حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت کے پیش نظر بعض فقہاء نے بٹائی کے طریق پر زمین کاشت کے لئے ٹھیکہ پر دینا ممنوع قرار دیا ہے۔لیکن اس کے مقابل دوسروں نے یہ کہا ہے کہ یہ راوی اپنی روایت میں منفرد ہیں اور صحابہ کرام کا تعامل ان کے بیان کی تائید نہیں کرتا۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایات مندرجہ بالا سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کی روایت منفرد نہیں۔بلکہ دوسری سندوں سے اس کی تائید ہوتی ہے۔اس لئے اسے صحیح تسلیم کر کے عنوانِ باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین میں خود کاشت نہیں کرتا اور نہ دوسروں کو کاشت کے لئے بٹائی پر دیتا ہے تو وہ کسی دوسرے کو کام کرنے کے لئے مفت دی جائے گی۔چنا نچہ باب ( نمبر (۱۸) کی دوسری، تیسری اور چوتھی روایت میں جو حضرت جابر حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس سے مروی ہیں، بلا معاوضہ دیئے جانے کی صراحت ہے۔جیسا کہ لیمنحھا کا جملہ دلالت کرتا ہے۔( دیکھئے روایات نمبر ۲۳۲۲،۲۳۴۱،۲۳۴۰) منحة کے معنی ہیں عطیہ۔علاوہ ازیں چوتھی روایت ( نمبر ۲۳۴۲) میں یہ بھی صراحت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پر ٹھیکہ دینے سے نہیں روکا۔بلکہ اس کے برعکس پانچویں روایت (نمبر ۲۳۴۳) سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں صحابہ کرام زمینیں ٹھیکہ پر کاشت کے لئے دیا کرتے تھے۔ان تمام تصریحات کے پیش نظر حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی روایت کا مفہوم اتنا ہی ہے جو امام بخاریؒ نے عنوانِ باب ( نمبر ۱۸) میں نمایاں کیا ہے۔یعنی از راہ ہمدردی اور اعانت صحابہ کرام کا ایک دوسرے کو زمین کاشت پر