صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 336 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 336

صحيح البخاری جلدم ۳۳۶ ا - كتاب الحرث والمزارعة أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ یہ فرمایا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو مفت زمین کاشت کے لئے ) دیدے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ اس پر مقررہ لگان لے۔شَيْئًا مَّعْلُومًا۔اطرافه: ٢٣٣٠، ٢٦٣٤- ٢٣٤٣ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۲۳۴۳ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعِ حماد بن زید ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ (سختیانی) سے، ایوب نے نافع سے روایت کی کہ يُكْرِي مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرِ کے زمانہ حیات میں اور حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کی خلافت کے زمانہ میں اور معاویہؓ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ کی امارت کے شروع میں اپنے کھیتوں کو لگان (یعنی بڑائی) پر دیا کرتے تھے۔مُعَاوِيَةَ۔طرفه ٢٣٤٥۔٢٣٤٤: ثُمَّ حُدِّثَ عَنْ رَافِعِ :۲۳۴۴: پھر حضرت رافع بن خدیج کی یہ حدیث ابْنِ خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بتائی گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَذَهَبَ دینے سے منع فرمایا۔اس پر حضرت ابن عمر حضرت ابْنُ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ فَذَهَبْتُ مَعَهُ رافع کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔پھر فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى الله ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِع نے کھیتوں کو ٹھیکہ پر دینے سے منع فرمایا۔اس پر فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا حضرت ابن عمر نے کہا: آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نُكْرِي مَزَارِعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ اپنے کھیتوں کو اس پیداوار کے بدلے لگان پر دیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى کرتے تھے، جو نالیوں پر ہوتی اور کچھ بھوسہ بھی الْأَرْبِعَاءِ وَبِشَيْءٍ مِّنَ التِّبْنِ۔اطرافه: ۲۲۸۶، ۲۳۲۷، ۲۳۳۲، ۲۷۲۲۔معاوضہ میں لیتے تھے۔