صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 9
صحيح البخاری جلد ۴ ۹ ۳۴- كتاب البيوع تجارتی کاروبار سے دکھایا گیا ہے۔ تہی دستی کی حالت میں تھے اور دیکھتے دیکھتے اُن کا شمار ان دولت مند تاجروں میں ہو گیا جنہوں نے خوب کمایا اور جنہوں نے اپنے اموال غریب پروری اور اللہ تعالیٰ کی راہوں میں کھلے ہاتھوں خرچ کئے ۔ تجارت کے باوجود عبادت الہی سے غافل نہ ہوئے۔ تیسری روایت میں یہی واقعہ دوسری سند سے دہرایا گیا ہے۔ اس میں لفظ استفضل وارد ہوا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مختصر سی پونچی سے تجارتی کاروبار شروع کر کے ایک ہی دن میں بچت کر لی اور تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ وہ شادی کرنے کے قابل ہو گئے ۔ اُن کو حضرت سعد بن ربیع کی طرف سے آدھے مال کی پیشکش کی گئی تھی۔ مگر انہوں نے اس سے بے نیاز رہ کر کسب معاش کو ترجیح دی۔ اور ان کا یہ استغناء اور محنت دونوں ربانی فضل کے جاذب ہوئے ۔ چوتھی روایت میں بھی آیت فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمُ (البقرۃ: ۱۹۹) کی وضاحت حضرت ابن عباس کی تفسیر سے کی گئی ہے اور اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ شروع میں صحابہ کرام نے کفار قریش کی منڈیوں میں کاروبار کرنا گناہ سمجھا تھا اور ان کی یہ غلط نہی وحی الہی سے دور ہوئی ۔ جس آیت کا آخر میں حوالہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَيْكُمْ (البقرة : ۱۹۹) تمہارے لئے یہ گناہ کی بات نہیں کہ (حج کے ایام میں ) اپنے رب کے فضل کی جستجو کرو۔ جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور یہ ذکر اس طرح کرو جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت کی ہے۔ اس آیت سے بھی یہ سمجھایا گیا ہے کہ حج بھی جو عبادات میں سے ایک بہت بڑا رکن اسلام ہے۔ وہ بھی تجارتی کاروبار میں حارج نہیں۔ خلاصہ یہ کہ مذکورہ بالا آیات کے حوالہ سے اور روایات کی اس ترتیب میں عدم وجوب سے متعلق غلط قیاسات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ یہ امر کہ اس باب میں وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللہ کی تشریح اور تجارتی کاروبار کے بابرکت عمل ہونے کا مضمون ہی مد نظر ہے، اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ سورہ جمعہ کی محولہ بالا آیت باب 9 میں بھی دہرائی گئی ہے، جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی قسم کی تجارت مکروہ و ممنوع ہے۔ فِي مَوَاسِمِ الْحَقِّ : چوتھی روایت کے آخر میں جملہ فِی مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ کا یہ مفہوم نہیں کہ یہ الفاظ آیت کا حصہ ہیں ۔ ہیں۔ بلکہ یہ جملہ تفسیری ہے اور بطور رہی ہے اور بطور دلیل حضرت ابن عباس کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ امام ابن حجر نے بھی اس مقصد کی صراحت ان الفاظ میں کی ہے : وَهُوَ حُجَّةٌ وَلَيْسَ بِقُرانِ یعنی یہ بطور دلیل منقول ہے، قرآن مجید کی آیت کا حصہ نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۳۶۸) اور محولہ بالا آیت کے سیاق سے بھی ظاہر ہے کہ اس کا تعلق شروع سے لے کر آخر تک احکام حج سے ہے جو نہ محل شبہ ہے اور نہ محتاج بیان ۔ دراصل اس قسم کے مواقع پر صحابہ کرام لفظ فنزلت محض تطبیق کے معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ یہ روایت کتاب الحج باب ۱۵۰ روایت نمبر ۱۷۷۰ میں بھی گزر چکی ہے۔ لفظ نزول یا تنزیل بمعنی تطبیق کی واضح مثالوں کے لیے دیکھیں کتاب الشرب والمساقاة باب و باب ۸ ۔