صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 8 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 8

صحيح البخاری جلد ۴ A ۳۴- كتاب البيوع كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ عكاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز منڈیاں تھیں ۔ جب اسلام کا الْإِسْلَامُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَتَّمُوْا فِيْهِ فَنَزَلَتْ : زمانہ آیا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے اُن میں لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا کاروبار کرنا گناہ سمجھا تو یہ آیت نازل ہوئی تمہارے لئے گناہ کی بات نہیں کہ تم اپنے رب کے فضل کی جستجو مِنْ رَّبِّكُمْ (البقرة : ۱۹۹) فِي مَوَاسِمِ الْحَجِّ قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ۔ اطرافه ۱۷۷۰، ۲۰۹۸، 4519۔ : حج کے موسموں میں کرو۔ حضرت ابن عباس نے اس (آیت ) کو (اسی طرح) پڑھا۔ تشريح : وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ : اس باب میں دو آیتوں کا حوالہ در احوالہ دیا گیا ہے۔ پہلی آیت سورہ جمعہ کی آخری آیات میں سے ہے۔ جس میں تجارت اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دی گئی ہے۔ فرماتا ہے: فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَإِذَا رَأَوُا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهُوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرٌ الرَّازِقِينَ (الجمعة: (۱۲۱) سیاق کلام سے واضح ہے کہ ان آیات میں فضل سے مراد رزق ہے، جس کا ایک ذریعہ تجارتی کاروبار ہے۔ جس کی طرف مسلمانوں کو اجتماعی طور پر تحریص دلائی گئی ہے۔ دوسری آیت میں کسب معاش کے ناجائز ذرائع کا ذکر ہے۔ فرماتا ہے : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمُ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ * وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا (النساء: ۳۱،۳۰) اس آیت میں جہاں تجارت کی بنیاد باہمی رضامندی اور پسندیدہ ذرائع قرار دی گئی ہے۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جائز طریق ترک کرنے اور باطل طریق اختیار کرنے میں تمہاری اپنی ہی ہلاکت و تباہی ہے۔ دونوں حوالے تجارت سے متعلقہ بنیادی ہدایات پر مشتمل ہیں اور پہلے حوالے میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا کلید کامرانی ہے۔ ان آیات کے تعلق میں فقہاء نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ آیا یہ احکام بصورت وجوب ہیں یا اباحت؟ یعنی تجارتی کاروبار اختیار کرنالازمی ہے یا اختیاری؟ بعض نے آیت مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ سے استدلال کیا ہے کہ اس سے ممانعت بہ نسبت اجازت کے زیادہ واضح ہے۔ اختلاف کے پیش نظر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے آیت کا متعلقہ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ نمایاں کیا ہے تا معلوم ہو کہ فضل الہی کا حصول واجب ہے اور یہی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے زیر عنوان چار روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ پہلی روایت میں صحابہ کی اکثریت کا نمونہ مذکور ہے۔ دوسری روایت میں بذریعہ تجارت فضل کا حصول یعنی مال و دولت میں زیادتی اور برکت کا نمونہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حصروا