صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 8
صحيح البخاری جلدم A ۳۴- كتاب البيوع كَانَتْ عُكَاظٌ وَمَجَنَّةُ وَذُو الْمَجَازِ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت میں أَسْوَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا كَانَ عكاظ، مجنہ اور ذوالمجاز منڈیاں تھیں۔جب اسلام کا الْإِسْلَامُ فَكَأَنَّهُمْ تَأَنَّمُوْا فِيْهِ فَنَزَلَتْ زمانہ آیا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نے اُن میں لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا کا روبار کرنا گناہ سمجھا۔تو یہ آیت نازل ہوئی تمہارے لئے گناہ کی بات نہیں کہ تم اپنے رب کے فضل کی جستجو - مِنْ رَّبِّكُمْ (البقرة: ١٩٩) فِي مَوَاسِمِ حج کے موسموں میں کرو۔حضرت ابن عباس نے اس (آیت) کو (اسی طرح) پڑھا۔الْحَجِّ قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ۔اطرافه ۱۷۷۰، ۲۰۹۸، ٤٥۱۹۔تشریح وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ : اس باب میں دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔پہلی آیت سورۂ جمعہ کی آخری آیات میں سے ہے۔جس میں تجارت اللہ تعالیٰ کا فضل قرار دی گئی ہے۔فرماتا ہے: فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَإِذَا رَأَوُا تِجَارَةً أَوْ لَهُوْا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِندَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهُو وَمِنَ الحِجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرٌ الرَّازِقِينَ ) (الجمعة: ۱۲۱۱) سیاق کلام سے واضح ہے کہ ان آیات میں فضل سے مرادر زق ہے؛ جس کا ایک ذریعہ تجارتی کاروبار ہے۔جس کی طرف مسلمانوں کو اجتماعی طور پر حریص دلائی گئی ہے۔ط دوسری آیت میں کسب معاش کے ناجائز ذرائع کا ذکر ہے۔فرماتا ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمُ رَحِيمًاO وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيرًا (النساء: ۳۰، ۳۱) ي اس آیت میں جہاں تجارت کی بنیاد باہمی رضامندی اور پسندیدہ ذرائع قرار دی گئی ہے۔وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جائز طریق ترک کرنے اور باطل طریق اختیار کرنے میں تمہاری اپنی ہی ہلاکت و تباہی ہے۔دونوں حوالے تجارت سے متعلقہ بنیادی ہدایات پر مشتمل ہیں اور پہلے حوالے میں اس بات کی بھی صراحت ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا کلید کامرانی ہے۔ان آیات کے تعلق میں فقہاء نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ احکام بصورت وجوب ہیں یا اباحت؟ یعنی تجارتی کاروبار اختیار کرنا لازمی ہے یا اختیاری؟ بعض نے آیت مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهُوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ سے استدلال کیا ہے کہ اس سے ممانعت بہ نسبت اِجازت کے زیادہ واضح ہے۔اختلاف کے پیش نظر امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے آیت کا متعلقہ حصہ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ نمایاں کیا ہے تا معلوم ہو کہ فضل الہی کا حصول واجب ہے اور یہی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے زیر عنوان چار روایتیں نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت میں صحابہ کی اکثریت کا نمونہ مذکور ہے۔دوسری روایت میں بذریعہ تجارت فضل کا حصول یعنی مال و دولت میں زیادتی اور برکت کا نمونہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے