صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 328
صحيح البخاري - جلدم ۳۲۸ ا - كتاب الحرث والمزارعة :٢٣٣٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا :۲۳۳۵ جی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ بن عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ إِلى جعفر ، عبید اللہ نے محمد بن عبد الرحمن سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے، حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو شخص ایسی زمین آباد قَالَ مَنْ أَعْمَرَ أَرْضًا لَيْسَتْ لِأَحَدٍ عن النَّبِيِّ کرے، جو کسی کی ملکیت نہ ہو تو وہ اس کا زیادہ حق دار فَهُوَ أَحَقُّ۔قَالَ عُرْوَةُ قَضَى بِهِ عُمَرُ ہے۔عروہ نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ۔تشریح: خلافت میں یہی فیصلہ کیا۔مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَّوَاتًا مَوَات کے معنے غیر آباد، دور افتادہ زمین کے ہیں کہ جوکسی کی ملکیت نہ ہو۔جمہور علماء کے نزدیک ایسی زمین آباد کرنے والے کی ہی ملکیت ہوگی۔کیونکہ وہ اس کی آبادی پر محنت کرتا ہے۔خواہ یہ زمین آبادی کے قریب ہو یا دور۔قطع نظر اس سے کہ امام وقت سے آباد کرنے کی اجازت حاصل کرے یا نہ کرے۔امام وقت سے عدم اجازت کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر قید و شرط مروی ہے : مَنُ أَحْيَا أَرْضًا مَّيْتَةً فَلَهُ مِنْهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِى مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ (مسند احمد بن حنبل جزء ۳ صفحه ۳۰۴) یعنی جس نے افتادہ زمین آباد کی تو اُسے آباد کرنے کی وجہ سے ثواب ہوگا اور جو حاجت مند اس میں سے کھائیں گے، وہ اس کے لئے صدقہ ہوگا۔ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عَادِيُّ الْأَرْضِ لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ مِنِّي أَيْ أَيُّهَا الْمُسْلِمُونَ اے مسلما نو ا زمانہ عاد کی یعنی قدیم اراضی اللہ اور اُس کے رسول کے لئے ہیں۔پھر وہ میری طرف سے تمہارے لئے ہیں۔ایک روایت میں بجائے عَادِي مَوَاتًا مِنَ الْأَرْضِ کے الفاظ ہیں۔یعنی غیر آباد زمین۔یہ ارشاد نبوی عام حق ملکیت دینے میں کافی سمجھا گیا ہے اور اس تعلق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسی زمین دارالاسلام میں واقع ہو اور غیر مسلم اس اعلان سے فائدہ اُٹھانے کا مجاز نہیں۔غرض اس قسم کے فتووں کے پیش نظر یہ باب قائم کر کے عنوان میں چند حوالے نقل کئے گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۴ ۲۵ ) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۷۴ تا ۱۷۷) پہلا حوالہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فتوے کا ہے جو انہوں نے کوفہ میں بنجر اراضی کی آبادی سے متعلق دیا تھا۔دوسرا حوالہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اجازت سے تعلق رکھتا ہے جو موطا امام مالک میں مروی ہے۔یے اس کی وضاحت یہ (مسند الشافعي، من كتاب الطعام والشراب وعمارة الأرضين، صفحه ۳۸۲) (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب إحياء الموات، باب لا يترك ذمي يحييه، جزء ۶ صفر ۱۴۳) مؤطا امام مالک، کتاب الأقضية، باب القضاء في عمارة الموات)