صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 329
صحيح البخاری جلد۴ ٣٢٩ ام - كتاب الحرث والمزارعة بیان ہوئی ہے کہ مسلمانوں نے پتھروں کی باڑ لگا کر زمینیں اپنے لئے مخصوص کرنا شروع کر دیں تو حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ زمینیں تا وقتیکہ آباد نہ کی جائیں، کسی شخص کی ملکیت نہیں ہوسکتیں۔(کتاب الاموال لأبي عبيد بن سلام) یہی روایت عباس بن یزید سے بھی مروی ہے۔اس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ منقول ہیں : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَّوَاتًا لَيْسَ فِي يَدِ مُسْلِمٍ وَلَا مُعَاهِدٍ فَهِيَ لَهُ - جس نے غیر آباد زمین آباد کی ، وہ اسی کے لئے ہے۔بشرطیکہ وہ زمین کسی مسلمان یا غیر مسلم معاہد کے قبضہ میں نہ ہو۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۶ صفحہ ۱۷۴) تیسرا حوالہ حضرت عمر و بن عوف کی روایت کا ہے۔جسے اسحاق بن راہویہ نے نقل کیا ہے۔اس میں بھی یہی صراحت ہے کہ کسی مسلمان کا اس پر قبضہ نہ ہو اور کسی غیر مسلم کا اس میں کوئی حق نہ ہو۔نسائی ، ابوداؤد اور ترندی نے بھی ان الفاظ کی روایات درج کی ہیں یا لَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ فِيهِ حَقٌّ کی یہ تشریح کی گئی ہے عرق ظالم صفت موصوف اور عرق سے پہلے ذُو محذوف ہے اور عبارت یوں ہے: لَيْسَ لِذِی عِرق ظالِم فِيهِ حَقَّ۔یعنی کسی ایسے شخص کا اس میں حق نہیں جس نے اس پر ظالمانہ قبضہ کر لیا ہو اور یہ جملہ بصورت ترکیب اضافی بھی پڑھا گیا ہے۔یعنی لَيْسَ لِعِرْقِ ظالِم فِیهِ حَقٌّ۔یعنی کسی ظالم کی رگ کا اس میں حق نہیں ہے۔یہ جملہ خواہ ترکیب توصیفی ہو یا ترکیب اضافی ، مفہوما ایک ہی ہے۔ظالم سے مراد وہ شخص ہے جو حق ملکیت وغیرہ کے بغیر زمین پر قابض ہو گیا ہو۔چوتھا حوالہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا ہے۔جسے احمد بن حنبل نے عباد بن عباد سے نقل کیا ہے۔اس کے الفاظ یہ ہيں: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مِّيْتَةً فَلَهُ مِنْهَا يَعْنِي أَجْرًا وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِى مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ه ترندی کی روایت بھی اسی سند سے ہے۔جس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَّيْتَةً فَهِيَ لَهُ پانچواں حوالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا ہے۔چھٹا حوالہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کا ہے؛ جو مرسل ہے۔عروہ راوی کی پیدائش زمانہ خلافت ثانیہ کے آخری حصہ میں ہوئی تھی۔واقعہ جمل میں ان کی عمر ۱۳ سال سے زیادہ نہ تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت ۲۳ھ میں ہوئی۔اس لئے ان کی روایتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح دی گئی ہے۔یہ ایک مستقل مضمون ہے جس کا تعلق بنجر زمین کی آبادی سے ہے اور یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ آیا امام یا حکومت وقت سے اجازت لینی ضروری ہے یا نہیں؟ امام شافعی اور امامین ( یعنی امام ابو یوسف و امام محمد ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا اذن کی بناء پر امام یا حکومت سے اجازت حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھتے ، خواہ غیر آباد زمین آبادی سے نزدیک ہو یا دور۔امام مالک کے نزدیک آبادی کے قرب وجوار کی بنجر زمین آباد کرنے میں اجازت حاصل کرنا لازمی ہے تا کہ اس سنن الكبرى للنسائى ، كتاب إحياء الموات، باب الحث على إحياء الموات) (ابوداؤد ، کتاب الخراج، باب في إحياء الموات) (ترمذی، کتاب الأحكام، باب ما ذكر في إحياء أرض الموات) (مسند احمد بن حنبل، جز ۳۶ صفحی۳۰۴) (ترمذی، کتاب الأحكام، باب ما ذكر في إحياء أرض الموات)