صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 327
صحيح البخاری جلدم - ۳۲۷ ا - كتاب الحرث والمزارعة کا ایک قطعہ اراضی تھا۔جس میں نخلستان تھا۔انہوں نے یہ بتامی وغیرہ کے لئے بطور صدقہ وقف کر دیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے حاصلات سے فائدہ اُٹھایا جائے اور اصل جائیداد محفوظ رہے، نہ بیچ کی جائے اور نہ ورثہ میں تقسیم ہو۔(کتاب الوصایا، باب ۲۲، روایت نمبر ۲۷۶۴) معجم البکری میں ذکر کیا گیا ہے کہ مدینہ کے قریب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک نخلستان تھا۔وہ ایک دن وہاں گئے اور نماز عصر نہ پڑھ سکے۔اس لئے بطور کفارہ یہ نخلستان وقف کر دیا۔ابن اثیر نے بھی اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ شمع کے علاوہ اُن کا ایک اور باغ بھی تھا جو صرمہ بن اکوع کے نام سے مشہور تھا۔اس باغ کو بھی حضرت عمرؓ نے وقف کر دیا تھا۔(عمدۃ القاری جزء ۲ صفحہ ۱۷۳) لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ۔۔۔۔: ابن التین کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آیت وَالَّذِينَ جَاءُ وَا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُ وُفٌ رَّحِيمٌ (الحشر : ۱۱) سے استنباط کیا ہے کہ عراق عرب کی مفتوحہ زمین بجائے تقسیم لگان اور بٹائی پر دی جائے تا مستقبل میں ضرورت مند مسلمانوں کے لئے کام آئے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۳) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحہ ۱۷۳) آیت کا ترجمہ یہ ہے اور جو لوگ ان کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں؛ بخش اور ہمارے دلوں میں مومنوں کے لئے کینہ نہ پیدا ہونے دے۔اے ہمارے رب ! تو بہت ہی مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔۔بَاب ١٥ : مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَوَاتًا یہ باب اس بارے میں ہے کہ ) جس نے بنجر زمین آباد کی (اس کا کیا حکم ہے؟ ) وَرَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ فِي أَرْضِ الْخَرَابِ اور حضرت علیؓ نے کوفہ کی غیر آبادزمین کے لئے یہی بِالْكُوفَةِ مَوَاتٌ۔وَقَالَ عُمَرُ مَنْ أَحْيَا فرمایا ( که جو آباد کرے، وہ اس کی ملکیت ہوگی ) اور أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَيُرْوَى عَنْ حضرت عمرؓ نے کہا: جس نے غیر آبادزمین آباد کی ، وہ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس کی ہو جاتی ہے اور حضرت عمرو بن عوف سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی اور اس پر اتنا زیادہ کیا: بشرطیکہ وہ کسی مسلمان کی ملکیت نہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔وَقَالَ فِي غَيْرِ حَقٍ مُسْلِمٍ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ فِيْهِ حَقٌّ وَيُرْوَى ہو اور ایسے شخص کے لئے جو ظالم طبع ہو، ایسی زمین میں فِيْهِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔حق نہیں اور یہی حضرت جابر سے بھی مروی ہے۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔