صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 326
صحيح البخاری جلدم ا - كتاب الحرث والمزارعة تشریح : إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمُ: اس تعلق میں دیکھئے کتاب البیوع تشریح باب ۹۸۔اس باب کے لانے کا منشاء یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے مال سے کام کرے تو اس کی آمد رقم والے کی ہوگی اور وہ اسے لے سکتا ہے۔أَوْقَافُ باب ١٤ أَوْ قَافُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَرْضُ الْخَرَاجِ وَمُزَارَعَتْهُمْ وَمُعَامَلَتْهُمْ صحابہ نبی ﷺ کے اوقاف اور اراضی خراج اور اُن کی بٹائی اور اُن کے معاملات وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے فرمایا: اصل لِعُمَرَ تَصَدَّقُ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ وَلَكِنْ (زمین) کو وقف کر دیں۔وہ نیچی نہ جائے ؛ بلکہ اس يُنْفَقُ ثَمَرُهُ فَتَصَدَّقَ بِهِ۔کی پیداوار سے خرچ کیا جائے۔چنانچہ حضرت عمر نے اس کو وقف کر دیا۔٢٣٣٤: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ أَخْبَرَنَا :۲۳۳۴ صدقہ (بن فضل) نے ہم سے بیان کیا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَّالِكِ عَنْ زَيْدِ که عبد الرحمن (بن مہدی) نے ہمیں بتایا۔انہوں ابْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ قَالَ عُمَرُ نے مالک سے، مالک نے زید بن اسلم سے ، زید نے اللهُ عَنْهُ لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِيْنَ اپنے باپ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: حضرت عمر رَضِيَ مَا فَتَحْتُ قَرْيَةً إِلَّا قَسَمْتُهَا بَيْنَ أَهْلِهَا رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نئے آنے والے مسلمانوں کا خیال نہ ہوتا تو میں جو بھی بستی فتح کرتا، اُس کو اُس كَمَا قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے فتح کرنے والوں ہی میں بانٹ دیتا؛ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو بانٹا۔خيبر اطرافه ١٢٥، ٤٢٣٥ ٤٢٣٦۔تشریح صلى الله اَوْقَافُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَرْضُ الْخَرَاجِ وَمَزَارَعَتْهُمُ : آنحضرت علا کی بعض اراضیات بطور وقف تھیں اور صحابہ کرام ان میں بطور مزارع کاشت کرتے تھے۔یہود کی خیبر کی اراضی بھی انہیں کاشت کے لئے دی گئی اور وہ اس کا لگان یعنی پیداوار کا مقررہ حصہ ادا کرتے تھے۔تَصَدَّقُ بِأَصْلِهِ لَا يُبَاعُ وَلَكِنْ يُنْفَقُ ثَمَرُهُ : عنوانِ باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے صدقہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔محولہ روایت کتاب الوصایا میں حضرت ابن عمر سے مفصل منقول ہے کہ مقام مجمع میں حضرت عمر نے