صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 325
صحيح البخاری جلدم ۳۲۵ ام - كتاب الحرث والمزارعة الرّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ مِنْهَا فَأَبَتْ سو اشرفیاں نہ لا دوں۔میں نے جستجو کر کے اشرفیاں حَتَّى أَتَيْتُهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَبَغَيْتُ حَتَّى جمع کیں۔جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان جَمَعْتُهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈرو اور اس مہر کو جائز طریقے سے ہی کھولو۔میں اُٹھ قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللهَ وَلَا تَفْتَح کھڑا ہوا۔اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ فَإِنْ كُنْتَ تیرے منہ کی خاطر کیا تو ہم سے اس پتھر کو ہٹا کر راستہ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ کردے۔چنانچہ وہ پتھر کچھ اور سرک گیا اور تیسرے عَنَّا فَرْجَةً فَفَرَجَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ نے کہا: اے میرے اللہ ! میں نے ایک فرق چاولوں إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيْرًا بِفَرَقِ أَرُز کے بدلے ایک شخص کو مزدوری پر لگایا تھا۔جب وہ اپنا فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِی کام کر چکا تو اس نے کہا: مجھے میرا حق دو۔میں نے اس کے سامنے پیش کیا۔اس نے اس کو منظور نہ کیا۔میں ان فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ ( چاولوں سے کھیتی کرتا رہا۔یہاں تک کہ اس سے میں أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا نے گائے بیل اور اُن کے چرواہے اکٹھے کر لئے۔کچھ وَرُعَاتَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ فَقُلْتُ عرصہ بعد وہ میرے پاس آیا اور کہا: اللہ سے ڈرو اور اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرُعَاتِهَا فَخُذْ میری مزدوری دے دو۔میں نے کہا: ان گائے بیلوں فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئُ بِي اور ان کے چرواہوں کے پاس جاؤ اور انہیں سنبھال فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَخُذْ لو۔اس نے کہا: اللہ سے ڈرو۔مجھ سے ٹھٹھا نہ کرو۔میں نے جواب دیا۔میں تم سے ٹھٹھا نہیں کرتا۔انہیں فَأَخَذَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ لے لو۔چنانچہ اس نے انہیں لے لیا۔(اے اللہ ! ) اگر ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیرے منہ کی خاطر کیا تھا فَفَرَجَ اللهُ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ وَقَالَ توجو ( پتھر ) باقی رہتا ہے، اسے بھی ہٹا دے تو اللہ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نے اُسے ہٹا دیا۔ابوعبداللہ (امام بخاریؒ) نے کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے نافع سے بعیت کی جگہ سعیت کا لفظ روایت کیا۔نَّافِعٍ فَسَعَيْتُ۔اطرافه: ۲۲۱۵، ۱۹۷۳۶۲۲۷۲ فرق تین صاع یا سولہ رطل کا ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۷۲)