صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 324
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۲۴ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ جارہے تھے کہ انہیں بارش نے آلیا تو انہوں نے پہاڑ فَأَوَوْا إِلَى غَارِ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ کی ایک غار میں پناہ لی۔ اس پہاڑ سے ایک پتھر غار کے عَلَى فَي غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ منہ پر آگرا اور ا اور انہیں غار کے اندر بند کہ اغار کے اندر بند کر دیا۔ تب وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے۔ اپنے اپنے نیک عملوں پر فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ نظر کرو جو تم نے اللہ کے لئے کئے ہوں اور ان کے انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوْهَا صَالِحَةً لِلَّهِ ویلے سے اللہ سے دعا کرو۔ شاید وہ اس ( پتھر ) کو تم فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ سے ہٹا کر نجات ) دے۔ ان میں سے ایک نے کہا: قَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ اے میرے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں اُن (کے پالنے) کے لئے جانور چرایا کرتا تھا۔ جب شام كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ کو گھر آتا تو میں آتا تو میں دودھ کو پہلے والدین سے شروع کرتا۔ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيْهِمَا قَبْلَ اپنے بچوں سے پہلے اُن کو پلاتا اور مجھے ایک دن دیر بَنِيَّ وَإِنِّي اسْتَأْخَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ ہوگئی۔ شام ہونے کے بعد گھر آیا اور انہیں سویا ہوا پایا۔ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا نَامًا میں نے دودھ دوہا؛ جیسا کہ دودھ دوہا کرتا تھا اور اُن فَعَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَقُمْتُ کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ مجھے یہ بھی نا پسند تھا کہ اُن کو عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوْقِظَهُمَا گاؤں اور یہ ھی ناپسند تھاکہ بچوں کو پہلے ) پلاؤں، حالانکہ بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک کی وجہ سے وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ وَالصَّبْيَةُ بِلک رہے تھے۔ اسی حالت میں صبح ہو گئی۔ اگر تو جانتا يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ حَتَّى طَلَعَ ہے کہ میں نے یہ تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہمارے الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ لئے راستہ کھول د ادے۔ جس سے ہم آسمان دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ راستہ کھول دیا اور انہوں نے آسمان ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فَرْجَةً نَرَى دیکھا اور دوسرے نے کہا: اے میرے اللہ ! میرے چچا مِنْهَا السَّمَاءَ فَفَرَجَ اللَّهُ فَرَأَوُا السَّمَاءَ کی ایک بیٹی تھی۔ جس سے میں اتنی ہی محبت رکھتا تھا جو وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِي مردوں کو عورتوں سے ؟ سے ہو ہو سکتی ہے۔ میں نے اس سے بِنْتُ عَمِّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِ مَا يُحِبُّ وصال چاہا۔ اس نے نہ مانا؛ جب تک کہ میں اُسے ایک