صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 312
صحيح البخاري - جلدم ۳۱۲ ا - كتاب الحرث والمزارعة قَالَ مُحَمَّدٌ۔۔۔۔محمد بن زیاد راوی ہیں اور حضرت ابو امامہ باہلی کا نام صدی بن عجلان بن وہب ( باہلی ) ابوامامہ ( ہے۔اپنے دادا کی نسبت سے مشہور ہیں۔حمص میں مقیم ہوئے اور دقوۃ شہر میں وفات پائی جو حمص سے دس میل کے فاصلے پر ہے۔سن وفات ۸۱ ھ ہے اور بوقت وفات ان کی عمر 9 سال تھی۔ایک قول کے مطابق یہ آخری صحابی ہیں جو ملک شام میں فوت ہوئے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۱۵۷) بَابِ ۳ : اقْتِنَاءُ الْكَلْبِ لِلْحَرْثِ کھیتی ( کی حفاظت ) کے لئے کتا پالنے کے بارے میں ارشاد ۲۳۲۲: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۲۳۲۲ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سی بن ابی کثیر سے کئی نے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابو سلمہ سے ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمْسَكَ نے فرمایا: جس نے کتا رکھا تو اس کے اعمال سے ہر كَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ كُلَّ يَوْمٍ مِنْ روز ایک قیراط کم ہوتا جائے گا، ہوائے اس کتے کے جو عَمَلِهِ قِيْرَاطٌ إِلَّا كَلْبَ حَرْتٍ أَوْ کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کی غرض سے رکھا جائے۔مَاشِيَةٍ۔قَالَ ابْنُ سِيْرِيْنَ وَأَبُو صَالِحٍ ابن سیرین اور ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ سے، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: اس کتے کے سوا جو بکریوں یا کھیتی کی حفاظت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَلْبَ غَنَمٍ أَوْ حَرْثٍ کے لئے یا شکار کے لئے رکھا جائے۔ابوحازم نے عَنْ صَيْدٍ۔وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سے روایت کرتے ہوئے یہ کہا: اس کتے کے سوا جو شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لئے رکھا ہو۔حضرت ابو ہریرہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی ہے وَسَلَّمَ كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ۔طرفه: ٣٣٢٤ ۲۳۲۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۳۲۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْفَةَ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن خُصیفہ سے