صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 311 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 311

صحيح البخاري - جلد ۴ ۳۱۱ ۴-۱- كتاب الحرث والمزارعة بَاب ۲ : مَا يُحْذَرُ مِنْ عَوَاقِبِ الاشْتِغَالِ بِآلَةِ الزَّرْعِ أَوْ مُجَاوَزَةِ الْحَدِ الَّذِي أُمِرَ بِهِ کھیتی کے ساز و سامان میں زیادہ مشغول رہنے سے اجتناب کے بارے میں ارشاد یا جس حد تک کہ (شریعت میں ) حکم دیا گیا ہے، اس سے تجاوز کرنے سے بچنے کا حکم ۲۳۲۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۲۳۲۱: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ عبد الله بن سالم حمصی نے ہمیں بتایا کہ محمد بن زیاد الْحِمْصِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ الہانی نے ہمیں حضرت ابوامامہ باہلی سے روایت الْأَلْهَانِيُّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ کرتے ہوئے بتایا۔ انہوں نے ہل اور کچھ کھیتی باڑی وَرَأَى سِكَةً وَشَيْئًا مِنْ آلَةِ الْحَرْثِ کے آلات دیکھ کر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ سے سنا ہے۔ آپ فرماتے تھے: جس قوم کے گھر میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا يَدْخُلُ هَذَا بَيْتَ یه (سامان) داخل ہوگا، اللہ تعالی اس قوم پر ضرور قَوْمٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الذُّلَّ قَالَ مُحَمَّدٌ وَلت لے آئے گا۔ محمد (بن زیاد ) نے کہا: حضرت وَاسْمُ أَبِي أُمَامَةَ صُدَيُّ بْنُ عَجْلان ابوامامہ کا نام صدی بن عجلان ہے۔ تشريح : مَا يُحْذَرُ مِنْ عَوَاقِبِ الإِشْتِغَالِ بِآلة الزَّرْعِ : وسعت فوائد کے اعتبارسے پیشہ زراعت افضل ہے اور برے نتائج کے اعتبار سے : مذموم ۔ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ الذُّلَّ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا تعلق امر واقعہ سے ہے۔ یعنی کا شکار ہر ملک میں میں ! اب تک حکام کا تختہ مشق بنے رہے ہیں۔ کاشتکاروں پر ظلم وستم ہی کمیونزم کی تحریک کا باعث ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ۱۷۷۹ء میں فرانسیسی کا شتکاروں نے مالکان اراضی کے جبر و استبداد سے رہائی پانے کی جدوجہد شروع کی۔ لفظ کمیون (Commune) کے معنی ہیں کا شتکاروں کی فرقہ بندی۔ انہوں نے چاہا کہ تلوار کے ذریعے مالکوں سے زمین آزاد کرالیں۔ مگر نتیجہ کیا ہے کہ وہ آہنی قوانین میں اتنی مضبوطی سے جکڑے گئے ہیں کہ خود ارادیت اور آزادی اختیار و تصرف عمل سے کلیہ محروم ہو گئے ۔ صلى الله بعض شارحین نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی یہ تشریح کی ہے کہ جب رات دن کھیتی باڑی میں کوئی قوم لگ جائے اور فنون جنگ سے غافل ہو جائے تو وہ آخر محکوم ہو کر رہ جائے گی اور اسے ذلت کا سامنا ہوگا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۸)