صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 305
صحيح البخاری جلدم ۳۰۵ ٤٠ - كتاب الوكالة شَارِبًا فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھے: نیمان یا نعیمان کا بیٹالا یا گیا۔اس نے شراب پی وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ فِي الْبَيْتِ أَنْ يَضْرِبُوْهُ ہوئی تھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود قَالَ فَكُنْتُ أَنَا فِيْمَنْ ضَرَبَهُ فَضَرَبْنَاهُ لوگوں سے فرمایا: اسے (مقررہ) سزا دیں۔حضرت عقبہ کہتے تھے۔میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اُسے بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيْدِ۔اطرافه: ٦٧٧٤ ٠٦٧٧٥ تشریح: مارا۔ہم نے اسے جوتوں اور کھجور کی چھٹڑیوں سے مارا۔الْوَكَالَةُ فِى الْحُدُودِ : حدود سے متعلقہ وکالت کی جو صورت اس باب کی روایتوں میں مذکور ہے وہ ظاہر ہے۔اس بارے میں مفصل دیکھئے : کتاب الصلح باب ۵، کتاب الحدود باب۴۔بَاب ١٤: اَلْوَكَالَةُ فِي الْبُدْنِ وَتَعَاهُدُهَا قربانی کے اونٹوں میں وکیل مقرر کرنا اور ان کی نگرانی کرنا :۲۳۱۷: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۲۳۱۷ اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ انہوں نے کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبداللہ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ بن ابى بكر بن حزم سے، عبد اللہ نے عمرہ بنت عبد الرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ عَائِشَةُ سے روایت کی کہ عمرہ نے انہیں خبر دی۔حضرت عائشہ أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُوْلِ اللَّهِ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا قربانی والے اونٹوں کے ہارا اپنے ہاتھ سے بہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے ان کے گلے میں ڈالے۔پھر ان کو میرے باپ کے ساتھ بھیج دیا اور (اس قربانی کے بھیجنے کی وجہ سے ) عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جب تک کہ قربانی کے اونٹ ذبح نہ کر دیئے گئے؟ نبی شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ صلى اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی بات حرام نہ ہوئی جو رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال کی تھی۔اطرافة: ١٦٩٦، ۱۶۹۸، ۱۶۹۹، ۱۷۰۰، ۱۷۰۱ ، ۱۷۰۲، ۱۷۰۳ ، ١٧٠٤، ١٧٠٥، ٥٥٦٦