صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 303 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 303

صحيح البخاری جلدم ٣٠٣ ٤٠ - كتاب الوكالة وَلَكِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ فَبِعِ کھجوریں ) خرید نا چا ہوتو (ناقص کھجور ) بیچ کر پھر اس التَّمْرَ بِبَيْعِ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ۔کی قیمت) سے (اچھی کھجوریں) خرید لو۔شریح: إِذَا بَاعَ الْوَكِيلُ شَيْئًا فَاسِدًا فَبَيْعُهُ مَرْدُودٌ : حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے یہاں مسئلہ معنونہ اخذ کیا گیا ہے۔انہی کی ایک روایت (نمبر ۲۲۰۱) کتاب البیوع باب ۸۹ میں گزر چکی ہے۔جہاں خیبر میں محفل بھیجنے اور اس کے عمدہ کھجوریں لانے کا ذکر ہے۔اس روایت میں محصل کا نام نہیں۔مگر امام ابن حجر نے تصریح کی ہے کہ وہ سواد بن غزیہ تھے اور یہاں حضرت ابو سعید کی روایت میں حضرت بلال کا ذکر ہے۔اس سے بعض شارحین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔(فتح الباری جز یہ صفحہ ۱۱۷) مگر امام بخاری کے نزدیک الگ الگ نہیں۔بلکہ یہ دونوں روایتیں ایک ہی واقعہ سے متعلق ہیں۔ورنہ روایت زیر باب سے معنونہ مسئلہ اس وقت تک اخذ نہیں کیا جاسکتا جب تک حضرت بلال کی بابت یہ ثابت نہ ہو کہ وہ خیبر میں بطور محتمل بھیجے گئے تھے اور مبادلہ میں جو تصرف انہوں نے کیا تھا، وہ جائز نہ تھا اور رد ہوا۔محض اپنے طور پر عمدہ کھجور میں لانے سے وہ وکیل یعنی سپرد کار نہیں سمجھے جاسکتے۔باب ۱۲ اَلْوَكَالَةُ فِي الْوَقْفِ وَنَفَقَتُهُ وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا لَّهُ وَيَأْكُلَ بِالْمَعْرُوْفِ وقف کے مال میں وکیل بننا اور وکیل کا اس جائیداد میں سے ) اپنا خرچہ لینا اور اپنے دوست کو اس میں سے کھلانا اور خود بھی دستور کے مطابق کھانا ۲۳۱۳: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۳۱۳: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ فِي (بن عيينهہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار ) صَدَقَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ عَلَى سے روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت عمر دینہ نے جو صدقے کے بارے میں لکھوایا تھا اس میں یوں ہے: الْوَلِي جُنَاحٌ أَنْ يَأْكُلَ وَيُؤْ كِلَ صَدِيقًا (صدقہ کے متولی پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ اس سے خود لَّهُ غَيْرَ مُتَأَتِلٍ مَالًا۔فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ کھائے اور دوست کو کھلائے مگر جائیداد بنانے والا نہ هُوَ يَلِي صَدَقَةً عُمَرَ يُهْدِي لِنَاسِ مِنْ ہو۔(حضرت عبداللہ بن عمرؓ ہی حضرت عمر کے صدقہ کے متولی تھے۔اہل مکہ میں سے بعض لوگوں کو اس میں سے أَهْلِ مَكَّةَ كَانَ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ۔ہدیہ بھی دے دیتے تھے جن کے ہاں وہ اُترتے تھے۔اطرافه ۲۷۳۷، ٢٧٦٤، ۲۷۷۲، ۲۷۷۳، ۲۷۷۷