صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 302
صحيح البخاری جلد ۴ ٣٠٢ ٤٠ - كتاب الوكالة مساکین کا حق ہیں۔اس موقع سے اس نے فائدہ اٹھانا چاہا اور حضرت ابو ہریرہ نے بھی چشم پوشی سے کام لیا۔اس لئے ان کا یہ فعل قابل اعتراض نہیں سمجھا گیا۔اس روایت کے علاوہ باقی روایتوں کا مضمون ایسا ہے جس کو طبیعت نہیں مانتی۔اسی لئے امام ابن حجر نے یہ سب روایتیں قصوں میں سے شمار کی ہیں۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۶۱۶) وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الْخَيْرِ : یعنی صحابہ کرام بھلی باتوں کے لینے میں بہت ہی حریص ہوتے تھے۔یہ جملہ راوی کا قول اور بطور جملہ معترضہ واقع ہوا ہے۔ایسے کلام کو حدیث کی اصطلاح میں مدرج کہتے ہیں۔یعنی راوی کی طرف سے درج شدہ بات۔بَاب ١١: إِذَا بَاعَ الْوَكِيْلُ شَيْئًا فَاسِدًا فَبَيْعُهُ مَرْدُوْدٌ اگر وکیل خراب چیز بیچے تو اُس کی بیچ واپس ہوگی ۲۳۱۲: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۲۳۱۲: الحق (بن راہویہ ) نے ہمیں بتایا۔سیمی بن يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةٌ هُوَ صالح نے ہم سے بیان کیا کہ معاویہ بن سلام نے ابْنُ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔( کہا: ) سمي ( بن ابی کثیر ) سے روایت عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ أَنَّهُ سَمِعَ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن عبد الغافر سے أَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے قَالَ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله سنا۔وہ کہتے تھے: بلال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ برنی کھجوریں لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا پوچھا: یہ کہاں سے لائے ہو؟ بلال نے کہا: ہمارے قَالَ بِلَالٌ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ رَدِيٌّ پاس روی کھجوریں تھیں تو میں نے اس کے بدلے دو فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعِ لِنُطْعِمَ النَّبِيَّ صاع دے کر اس میں سے ایک صاع اس لئے خریدا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا ئیں۔نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ أَوَّهُ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اوہ اوہ۔یہ تو عین سود أَوَّهُ عَيْنُ الرِّبَا عَيْنُ الرِّبَا } لَا تَفْعَلْ ہے۔عین سود ہے یہ ہم ایسانہ کرو۔لیکن اگر تم (اچھی حمله عمدۃ القاری میں اس جگہ عِندَنَا کا لفظ ہے۔نیز الفاظ عَيْنُ الرِّبَا دو دفعہ ہیں۔(عمدۃ القاری جز ۲ صفحہ ۱۴۸) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔