صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 301 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 301

صحيح البخاری جلدم ٤٠ - كتاب الوكالة مال سے قرض نہیں دے سکتے اور نہ ان کے لئے اس میں خلاف مرضی مالک تصرف کرنا جائز ہے تو حضرت ابو ہریرہ نے اس امانت میں کیوں تصرف کیا؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آچکا تھا اور آپ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔کیونکہ وہ صدقات غرباء کے لئے جمع ہوئے تھے۔در حقیقت وکیل کے قرض دینے کا مسئلہ جو مستنبط کیا گیا ہے، وہ اس امر سے ہے کہ جب کلیپ کوئی چیز اگر وکیل کسی کو دے سکتا ہے تو قرضہ بدرجہ اولی دے سکتا ہے۔لیکن یہ سب صورتیں تبھی جائز ہیں جب موکل وکیل کو زبانی یا عملا اجازت دے دے۔(فتح الباری جز یہ صفر ۶۱۴) امام ابن حجر نے دیگر کتب احادیث کی روایتوں کا حوالہ دے کر بتایا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل"، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابوایوب انصاری ، حضرت ابواسید انصاری اور حضرت زید بن ثابت کے ساتھ بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ان میں سے پہلے اور چوتھے حوالے کی روایتیں طبرانی نے اور باقی روایتیں ابویعلی، ترندی اور ابن ابی دینار سے علی الترتیب مروی ہیں جو بلحاظ سند کمزور ہیں اور قصے کہانیاں ہیں۔ایک میں شیطان ، دوسرے میں جنبی اور دائبة (جانور)، تیسرے اور چوتھے میں غوسل ( چڑیل ) اور پانچویں میں رَجُلٌ مِنَ الْجِن کا ذکر ہے کہ وہ غلہ یا کھجوریں چرانے کے لئے آیا اور ان میں سے ہر ایک راوی نے اپنی انوکھی سرگذشت بیان کی۔امام بخاری نے بلحاظ صحت یہ روایتیں قبول نہیں کیں۔قدر مشترک ان روایتوں میں یہ امر ہے کہ سخت قحط کا زمانہ تھا اور رات کو آنے والا چوری چھپے آتا اور جب چوری کرتے ہوئے پکڑا جاتا تو وہ صحابی کو آیت الکرسی پڑھنے کی تلقین کرتا۔امام ابن حجر کے نزدیک بلحاظ صحت حضرت ابو ہریرہ والا واقعہ زیادہ قابل اعتماد ہے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ واقعہ باب میں منقطع السند درج ہوا ہے۔لیکن چونکہ امام موصوف نے اس سے مسئلہ اخذ کیا ہے، اس لئے اس کی صحت روایت میں شبہ نہیں کیا جاسکتا۔( فتح الباری جز ۴ صفر ۴ ۶۱ تا ۶۱۶ ) (عمدۃ القاری جزء ۲ صفحه ۱۴۶، ۱۴۷) لفظ شیطان چور پر بھی اطلاق پاسکتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں بظاہر کوئی ایسی بات نہیں جو غیر معمولی سمجھی جائے۔مسجد نبوی کے قریب صفہ میں حضرت ابو ہریرہ اور بعض بے خانماں صحابہ کا قیام تھا اور وہیں صدقات فطر جمع ہوتے اور رکھے جاتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ چونکہ رحم دل اور غایت درجہ مہربان ہمدرد تھے اور انہیں اپنی بھوک کی تلخیوں کا بھی تجربہ تھا۔جب چور نے اپنے بال بچوں کی بھوک کا واسطہ دیا تو اُسے جانے دیا۔إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ : آیت الکرسی کی مبارک تا ثیر کا علم دینے والا جانتا تھا کہ یہ آیت صفات وحدانیت، قیومیت اور ربوبیت کی جامع تعلیم پر مشتمل ہے۔مگر خود وہ اس پر عامل نہ تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جھوٹا قرار دیا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مدینہ منورہ کے مضافات کا کوئی غریب باشندہ تھا۔قحط کا زمانہ تھا۔صدقات جمع ہونے کا موقع دیکھ کر تین رات خوراک حاصل کرنے کی غرض سے آتا رہا۔صدقات غرباء اور (المعجم الكبير للطبراني من ا اسمه معاذ، جزء ۲۰ صفحه ۵۱) تے (ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسي (المعجم الكبير للطبراني، ما أسند آبی آسید، جزء ۱۹ صفر ۲۶۳)