صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 299 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 299

صحيح البخاری جلدم ۲۹۹ ٤٠ - كتاب الوكالة لَا أَعُوْدُ فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ عیال دار ہوں۔اب دوبارہ نہیں آؤں گا۔مجھے اس پر فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ ترس آیا اور میں نے پھر اُسے جانے دیا۔صبح جو میں اُٹھا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تو رسول اللہ نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ ! تمہارے ﷺ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قیدی نے کیا کیا ؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ سخت تنگ دستی اور بال بچوں کا شکوہ کیا۔مجھے اس پر رحم فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ قَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ آیا اور میں نے اسے جانے دیا۔آپ نے فرمایا: خبردار وَسَيَعُوْدُ فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ فَجَعَلَ يَحْثُو اس نے تم سے جھوٹ بولا ہے اور وہ پھر آئے گا۔چنانچہ مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ میں تیسری دفعہ اس کی تاک میں رہا۔وہ آیا * اور لپ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ ﷺ وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ بھر بھر کر اناج لینے لگا۔میں نے اسے پکڑ لیا اور میں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کروں گا مَرَّاتٍ إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُودُ اور یہ تیسری دفعہ ہے کہ تو کہتا ہے کہ اب نہیں آؤں گا۔قَالَ دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ پھر تو آجاتا ہے۔اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو۔میں تجھے اللهُ بِهَا قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى ایسے کلمات سکھاؤں گا کہ جن سے اللہ تجھے فائدہ دے فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لَا إِلَهَ گا۔میں نے کہا: وہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا: جب تم سونے إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ (البقرة: ٢٥٦) کے لئے اپنے بچھونے پر جاؤ تو آیت الکرسی پڑھو حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ ( یعنی اللہ ! اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ہمیشہ زندہ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔تو تم پر اللہ کی طرف حَتَّى تُصْبِحَ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ فَأَصْبَحْتُ سے ایک نگہبان رہے گا اور صبح تک شیطان تیرے فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قریب نہ آئے گا۔اس پر میں نے اسے جانے دیا۔مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ قُلْتُ صبح جو میں اُٹھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے يَا رَسُوْلَ اللهِ زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ قیدی نے کل رات کیا کیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! يَنْفَعُنِي اللهُ بِهَا فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ قَالَ مَا اس نے کہا کہ وہ مجھے ایسی باتیں سکھائے گا کہ جس سے کشمی منی اور مستملی کے مطابق اس جگہ فجاء کا لفظ ہے (فتح الباری جز یہ صفحہ ۶۱۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔