صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 298 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 298

صحيح البخاري - جلد ۴ ۲۹۸ ٤٠ - كتاب الوكالة ۲۳۱۱ : وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ۲۳۱۱ اور عثمان بن ہیثم ابو عمرو (بصری ) نے کہا: أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدِ عوف نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن سیرین سے، ابْنِ سِيْرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ اللہ سے روایت قَالَ وَكَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ رمضان بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ فَأَتَانِي آپ کی نگرانی پر مجھے مقرر کیا تو ایک آنے والا میر - ، والا میرے پاس فَجَعَلَ يَحْنُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ آیا اور وہ غلے سے لپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اس وَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ کو پکڑا اور میں نے کہا: خدا کی قسم میں تجھ کو رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي مُحْتَاجٌ کے پاس لے جاؤں گا۔ اس نے کہا: میں محتاج وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ قَالَ ہوں۔ مجھ پر بال بچوں کا بوجھ ہے اور میں سخت تنگدستی فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ میں ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے۔ میں نے اس کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ جانے دیا۔ جب میں صبح کو اٹھ تو نبی صل اللہ علیہ وسلم مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ قَالَ قُلْتُ نے فرمایا: ابوہریرہ کل رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے: میں نے کہا: یا رسول الله ! يَا رَسُوْلَ اللهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهُ اس نے سخت تنگدستی اور بال بچوں کا شکوہ کیا۔ میں نے اس پر رحم کیا اور اُسے جانے دیا۔ آپ نے فرمایا: اس قَالَ أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ نے تم سے جھوٹ کہا ہے۔ سے جھوٹ کہا ہے۔ پھر وہ دوبارہ آئے گا اور فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ میں بھی سمجھ گیا کہ وہ ضرور آئے گا۔ کیونکہ رسول اللہ صلى الله لئے میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ سَيَعُودُ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دوبارہ آئے گا۔ اس ۔ فَرَصَدْتُهُ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ اس کی تاک میں بیٹھ گیا۔ اتنے میں وہ آیا اور اناج فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى اپ بھر بھر کر لینے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تجھے رسول الله ﷺ کے سامنے ضرور پیش کروں گا۔ قَالَ دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ اس نے کہا: مجھے جانے دو۔ کیونکہ میں محتاج ہوں اور لکشمی ہنی اور مستملی کے مطابق اس جگہ فَجَاءَ کا لفظ ہے ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۶۱۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ صلى الله