صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 297 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 297

صحيح البخاری جلدم ۲۹۷ بَاب ۹ : وَكَالَةُ الْمَرْأَةِ الْإِمَامَ فِي النِّكَاحِ عورت کا ( اپنے ) نکاح میں امام کو وکیل کرنا ٤٠ - كتاب الوكالة ۲۳۱۰ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۳۱۰: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوحازم سے، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى ابو حازم نے سہل بن سعد سے روایت کی۔کہتے تھے: رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اللہ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ اور اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے اپنے آپ کو لَكَ مِنْ نَّفْسِي فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجُنِيْهَا آپ کے سپرد کر دیا۔ایک شخص نے کہا: اس کا نکاح قَالَ قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ مجھ سے کر دیجئے۔آپ نے فرمایا : ہم نے تجھ سے اس کا نکاح کر دیا ، اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے۔الْقُرْآنِ۔اطرافه ،۵۰۲۹، ۵۰۳۰، ۵۰۸۷، ٥۱۲۱، ٥١٢٦، ۰۱۳۲، ۵۱۳۵، ٥۱٤۱ ٥١٤٩، ۷۱۷ ،۵۸۷۱ ،۵۱۵۰ تشریح: وَكَالَةُ الْمَرْأَةِ الْإِمَامَ فِى النِّكَاح: مذکورہ بالا روایت کتاب النکاح میں بھی قدرے تفصیل کے ساتھ منقول ہے۔(دیکھئے کتاب النکاح، باب ۱۴) یہاں وکالت کی ایک الگ صورت بیان کرنے کی غرض سے عنوان قائم کیا گیا ہے۔الفاظ وَهَبْتُ لَكَ مِنْ نَّفْسِي سے ظاہر ہے کہ واہبہ خاتون نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی خاطر ہبہ کیا تھا۔اس نے آپ کو اپنے نکاح میں بطور وکیل مقرر نہیں کیا۔مگر چونکہ یہ ہبہ کی ایک صورت تھی اور موہوب لہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ ہبہ کرنے والے کی اجازت سے بطور وکیل جائز طور پر تصرف کرے۔اس لئے آپ نے واہیہ کا نکاح بطور وکیل ایک انصاری مسلمان سے کر دیا۔باب ۱۰ إِذَا وَكَّلَ رَجُلًا فَتَرَكَ الْوَكِيلُ شَيْئًا فَأَجَازَهُ الْمُوَكَّلُ فَهُوَ جَائِزٌ اگر کوئی کسی شخص کو وکیل کرے اور پھر وہ وکیل کسی بات کو چھوڑ دے اور مؤکل اس بات کی اجازت دیدے تو یہ جائز ہوگا وَإِنْ أَقْرَضَهُ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى جَازَ اگر وکیل معین میعاد پر کسی کو قرض دے (اور موکل اس کی اجازت دیدے) تو یہ بھی جائز ہوگا۔