صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 296
صحيح البخاری جلدم ۲۹۶ ٤٠ - كتاب الوكالة کہاں کا قصد ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک عورت قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيْرَ وَلَكَ ظَهْرُهُ میرے ہاتھ بیچ دو۔( پھر آپ نے خود ہی فرمایا: ) میں إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نے اس کو چار اکثر فیوں پر لے لیا اور تم کو اجازت ہے أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ قَالَ أَيْنَ تُرِيْدُ قُلْتُ کہ مدینہ تک اس پر سوار رہو۔جب ہم مدینہ کے قریب تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلَا مِنْهَا قَالَ فَهَلَّا ہوئے، میں ایک اور طرف جانے لگا۔آپ نے پوچھا: جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ إِنَّ سے شادی کی ہوئی ہے جس کا خاوند فوت ہو چکا تھا۔أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ آپ نے فرمایا: کسی کنواری سے کیوں نہ کی؟ جس سے أَنْكِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلَا مِنْهَا قَالَ تم کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔میں نے کہا: میرے باپ فَذَلِكَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ يَا بِلَالُ فوت ہو گئے اور بیٹیاں چھوڑ گئے تو میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو تجربہ کار ہو۔اس کا خاوند اقْضِهِ وَزِدْهُ فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيْرَ وَزَادَهُ قِيْرَاطًا قَالَ جَابِرٌ لَا تُفَارِقُنِي مرگیا ہو۔آپ نے کہا: اچھا یہ بات ہے۔جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ نے فرمایا: بلال ! (جابر کو) قیمت ادا کر دو اور زِيَادَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کچھ زیادہ دو۔حضرت بلال نے چار دینار دیئے فَلَمْ يَكُن الْقِيْرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ اور ایک قیراط سونا زیادہ دیا۔حضرت جابڑ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ زیادہ دیا ہوا عطیہ مجھے ابْنِ عَبْدِ اللهِ۔سے جدا نہیں ہوتا۔چنانچہ وہ قیراط حضرت جابر بن عبداللہ کی تھیلی سے الگ نہ ہوتا تھا۔اطرافه: ٤٤٣، ١٨٠١، ،۲۰۹۷، ۲۳۸۵، ۲۳۹٤، ٢٤٠٦، ۲٤٧٠ ، ٢٦۰۳، ٢٦٠٤، ٢٧١٨، ،٥ ٥٢٤٣۰۸۰ ،۵۰۷۹ ،۶۰۰۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،٢٨٦١، ٢٩٦٧ ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦، ،٥٢٤٧ ٥٣٦٧ ٦٣٨٧ تشریح: فَأَعْطَى عَلَى مَا يَتَعَارَفَهُ النَّاسُ : عنوانِ باب کا مفہوم مندرجہ روایت سے واضح ہوتا ہے کہ وکیل وکالت کا منصب ادا کرنے میں جہاں موکل کی طرف سے اسے معین ہدایت نہ ہو، مروجہ دستور اور عام طریق کو ملحوظ رکھے۔جیسا کہ حضرت بلال نے حضرت جابڑ کو ایک قیراط سونا زیادہ دے دیا۔حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعیین نہیں کی تھی۔